خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 72 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 72

$1948 72 خطبات محمود تم شیشے اپنے سامنے رکھ کر دیکھ لو سارے کے سارے مُردار معلوم ہوتے ہو۔اس کے مقابلہ میں سکھوں کی شکلیں دیکھ لو اُن کے قد بلند ہیں ، اُن کے جسم مضبوط ہیں ، اُن کی شکلوں سے رعب ٹپکتا ہے، اُن کے اندر طاقت اور قوت زیادہ ہے۔آخر تم میں اور اُن میں یہ فرق کیوں ہے؟ وہی زمین اُن کے پاس ہے جو تمہارے پاس ہے ، وہی خوراک وہ کھاتے ہیں جو تم کھاتے ہو، وہی سامان اُن کے پاس ہے جو تمہارے پاس ہے۔پھر یہ فرق کیوں ہے؟ یہ فرق اسی لیے ہے کہ سکھ محنت کے عادی ہیں۔کام کرتے ہیں تو پوری دیانت داری کے ساتھ کرتے ہیں۔اور چونکہ اُن کے جسم محنت اور مشقت کرنے کے عادی ہیں اُن کے پیٹ میں جب روٹی جاتی ہے تو اچھی طرح ہضم ہوتی اور اچھا خون پیدا کرتی ہے۔اسی طرح وقت پر اور صیح طور پر کام کرنے کے نتیجہ میں اُن کے اور کاموں میں بھی نمایاں فرق نظر آتا ہے۔پھر جب لڑائی ہوتی ہے تو لڑائی میں بھی وہ مسلمانوں کو مار لیتے ہیں۔مشرقی پنجاب میں مسلمان چوالیس فیصدی تھے اور سکھ چھیں فیصدی۔مگر چوالیس فیصدی مسلمان چھیں فیصدی سکھ کے مقابلہ میں اس طرح بھاگا ہے کہ جس طرح دھواں دیکھتے ہی دیکھتے انسانی نظروں سے غائب ہو جاتا ہے۔اسی طرح چند دنوں میں سارا مشرقی پنجاب مسلمانوں سے خالی ہو گیا۔بٹالہ جیسا شہر جس میں ساٹھ ہزار مسلمان تھے ہم نے اُن سے بہتیرا کہا کہ ایک طرف تم ڈٹے رہو اور دوسری طرف ہم قادیان میں ڈٹے رہتے ہیں سکھ ہمارا مقابلہ نہیں کرسکیں گے۔مگر ساٹھ ہزار کا شہر دو گھنٹہ کے اندراندر خالی ہو گیا اور سارے مسلمان شہر چھوڑ کر بھاگ گئے حالانکہ بٹالہ میں صرف چند سو سکھ تھے اور اسی فیصدی مسلمان۔مگر اسی فیصدی مسلمان کے چند سو سکھ سے ڈر کر اوسان خطا ہو گئے۔یہ ڈر آخر کیوں پیدا ہوا؟ اس لیے کہ سکھوں کی شکلیں ہی ہیبت ناک ہوتی ہیں اور وہ ہر قربانی کرنے کے لیے تیار ہوتے ہیں۔اس کے مقابلہ میں مسلمان کی شکل سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ وہ پوستی اور منحوس ہے اور خدا کی لعنت اُس کی پر برس رہی ہے۔سکھ کو دیکھ کر یوں معلوم ہوتا ہے کہ اُس میں ہمت ہے، طاقت ہے، ہوشیاری ہے، چالا کی ہے، کام کرنے کی روح ہے، مشکلات پر غلبہ پانے کی اُس میں طاقت ہے۔لیکن مسلمان جب اپنے گھر سے نکلتا ہے تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ اُس کی ماں مرگئی ہے یا ابھی اپنی بیٹی کو دفن کر کے آیا ہے۔اُس کے چہرے پر نحوست اور افسردگی اور غم کی کیفیات ہوتی ہیں، اُس کی کمر ٹیڑھی ہو رہی ہوتی ہے، مُردنی اُس پر چھائی ہوئی ہوتی ہے، وہ کھانا کھاتا ہے تو اُسے ہضم نہیں ہوتا اور ڈکارتا رہتا ہے۔