خطبات محمود (جلد 29) — Page 59
$1948 59 خطبات محمود گئے تو وہ ہاشمی دشمن جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ پر بعض دفعہ گالیاں دیا کرتے تھے ، وہ ہاشمی دشمن جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر پتھر پھینکنے میں خوشی محسوس کرتے تھے، وہ ہاشمی دشمن جوا ابو جہل کو اُکسا اُکسا کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تکالیف پہنچایا کرتے تھے۔وہ بھی قومی عصبیت اور رشتہ داری کی وجہ سے اپنے گھروں کو چھوڑ کر اس وادی میں محصور ہو گئے۔یہاں تک کہ وہ شدید ترین دشمن جس کا قرآن کریم میں بھی اُس کے ظلموں اور بد اعمال کی وجہ سے ابولہب نام آتا ہے وہ بھی اپنے دوستوں اور ہمنوا لوگوں کو چھوڑ کر اُس جگہ چلا گیا اور اُن سب نے کہا کہ ہم اپنے رشتہ داروں کو نہیں چھوڑ سکتے۔تو رشتہ داری ایک اثر رکھتی ہے اور خونی تعلق کبھی کبھی ایسی قربانیاں بھی کروالیتا ہے جو دوسرے حالات میں ناممکن نظر آتی ہیں۔چنانچہ وہی شخص جس کو ابو لہب کہتے ہیں ( اُس کا نام ابولہب نہیں تھا) اور جس کے متعلق قرآن کریم فرماتا ہے تَبَّتْ يَدَا أَيْ لَهَبٍ وَتَبَّ 3 ابولہب ہلاک ہو گیا اور اُس کی طاقت توڑ دی گئی۔جب ابو طالب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وادی ابی طالب میں پناہ گزیں ہوئے تو اسی ابولہب نے کہا کہ میں بھی اب مکہ میں نہیں رہ سکتا۔جہاں یہ لوگ رہیں گے وہیں میں بھی رہوں گا۔حالانکہ وہ مسلمان نہیں تھا بلکہ شدید ترین دشمن اسلام تھا مگر رشتہ داری کی وجہ سے اُس نے ایسا کیا۔تو رشتہ داریاں فائدہ بھی دیتی ہیں اور رشتہ داریاں کبھی کبھار کام بھی آجایا کرتی ہیں۔اس لیے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے وَانْذِرُ عَشِيْرَتَكَ الأَقْرَبِينَ اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! تو دنیا کے کونے کونے کے لوگوں کو ڈرا لیکن پہلے اپنے عزیزوں کو ڈرا۔اس لیے کہ اُن کا تجھ پر ڈہر احق ہے۔ایک حق تو یہ ہے کہ باقی دنیا کی طرح یہ بھی تباہ ہو رہے ہیں اور ایک حق یہ ہے کہ یہ تیرے رشتہ دار ہیں اور ان کے باپ دادوں نے تیرے ساتھ کبھی حسن سلوک کیا تھا۔چنانچہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کو ڈرایا۔کچھ لوگ اُن میں سے ہدایت پاگئے اور کچھ گمراہ ہی رہے۔پس میں وَانْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ کے حکم کے ماتحت بھی اور حق رشتہ داری کو مدنظر رکھتے ہوئے بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اولا د کو اُن کے فرائض کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔اُن کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ مامور کیا ہوا کرتے ہیں اور اُن پر ایمان لانے کے بعد انسان پر کیا ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔اگر ایک مامور کے گھر میں پیدا ہونے کے بعد اُن کو اتنا بھی پتہ نہیں کہ