خطبات محمود (جلد 29) — Page 60
$1948 60 خطبات محمود مامور کیا ہوتا ہے یا مامور کی جماعت کیسی ہوتی ہے تو اُن سے زیادہ نابینا اور کور چشم اور کون ہوسکتا ہے۔ایک انگلستان کا آدمی اگر یہ کہتا ہے کہ میں نہیں جانتا آم کیا چیز ہوتی ہے، اگر امریکہ کا ایک آدمی یہ کہتا ہے کہ میں نہیں جانتا کمرخ 4 ( کمر کھ ) کیا چیز ہوتی ہے تو ہم اُسے معذور خیال کر سکتے ہیں۔لیکن اگر ایک ہندوستانی یہ کہے کہ میں نہیں جانتا کہ آم کیا چیز ہوتی ہے تو تم اسے کتنا ذلیل اور کتنا حقیر خیال کرو گے۔تم اُسے پاگل سمجھو گے یا اُس کے متعلق یہ کہو گے کہ یہ شخص دنیا میں کسی مصرف کا نہیں اور اس نے کی دنیا میں رہ کر کچھ بھی نہیں سیکھا۔اگر کوئی غیر یہ کہتا ہے کہ میں نہیں جانتا ما مور کی کیا ضرورت ہوتی ہے، اگر کوئی غیر یہ کہتا ہے کہ میں نہیں جانتا مامور کس چیز کی قربانی کا مطالبہ کیا کرتے ہیں، اگر کوئی غیر یہ کہتا ہے کہ میں نہیں جانتا مامور کی جماعت کی ذمہ داری کیا ہوتی ہے، اگر کوئی غیر یہ کہتا ہے کہ میں نہیں جانتا مامور کو قبول کر کے انسان کو کیا قربانی کرنی پڑتی ہے۔تو اگر ایسا کہنے والا احمدی ہے تب بھی اُس پر افسوس ہے اور اگر ایک شخص جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان کی طرف منسوب ہے یہ بات کہتا ہے تو وہ ایک نہایت ہی حقیر اور ذلیل انسان ہے کیونکہ اُس نے اپنی ذمہ داری کے سمجھنے میں سخت کو تا ہی سے کام لیا ہے۔یادرکھوز مانے بدلتے ہیں اور زمانوں کے ماتحت حالات بھی بدلتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی ثابت ہے کہ آپ اچھی سے اچھی غذا بھی کھا لیتے تھے۔مگر یہ بھی ثابت ہے کہ آپ نے فاقے بھی کیے اور بعض دفعہ اتنے لمبے فاقے کیسے کہ آپ کو اپنا پیٹ باندھنا پڑا۔جس واقعہ کی وجہ سے غلطی سے لوگ یہ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیٹ پر پتھر باندھے حالانکہ یہ عربی کا محاورہ ہے۔عربی میں جب کوئی فاقہ زدہ انسان اپنا پیٹ کس کر باندھ لے مثلاً پڑکا باندھ لے تا کہ پیٹ ہلے نہیں تو کہتے ہیں اُس نے اپنے پیٹ پر پتھر باندھ لیے ہیں۔مگر چونکہ ہندوستانی عربی نہیں جانتا اُس نے پتھر کا لفظ دیکھ کر یہ سمجھ لیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بُھوک کی شدت کے وقت واقعی میں پتھر اٹھا کر باندھ لیے تھے۔حالانکہ عقلاً بھی کمزور انسان بوجھ کم اُٹھا سکتا ہے زیادہ نہیں اُٹھا سکتا۔بہر حال ہمارے ملک میں جو بعض دفعہ پڑ کا باندھ لیتے ہیں عرب اُسے پتھر باندھنا کہتے ہیں۔جس طرح ہمارے ملک میں کہتے ہیں میں نے اپنے دل پر پتھر رکھ لیا ہے اور اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ میں نے صبر کیا۔اسی طرح کا یہ محاورہ ہے۔اگر اُردو میں کوئی شخص یہ محاورہ استعمال کرے اور کہے کہ