خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 52 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 52

$1948 52 خطبات محمود مہاجرین کا نام نہیں لیا۔بلکہ صرف یہ فرمایا کہ اے انصار! اللہ کا رسول تم کو بلاتا ہے۔مہاجرین بعض دوسرے الفاظ میں بے شک شریک ہو جاتے تھے مگر علیحدہ طور پر آپ نے اُن کا نام نہیں لیا۔مثلاً بعض روایتوں میں ذکر آتا ہے کہ آپ نے فرمایا اے بیعتِ رضوان والے لوگو! اور بیعت رضوان میں مہاجرین شامل تھے۔بہر حال اس عرصہ میں دشمن نے اور حملہ کیا اور ایک وقت ایسا بھی آ گیا جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم میدانِ جنگ میں اکیلے رہ گئے۔اُس وقت صرف ایک صحابی ابوسفیان 3 آپ کے پاس تھے یاوہ شخص تھا جو آپ کو قتل کرنے کی نیت سے آیا تھا۔وہ کہتا ہے جب میں نے دیکھا کہ آپ اکیلے ہیں تو میں نے سمجھ لیا کہ اب میرے لیے عمدہ موقع آگیا ہے۔میں آگے بڑھا اس نیت اور اس ارادہ سے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مار دوں۔جب میں آگے بڑھا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر مجھ پر پڑ گئی۔آپ نے فرمایا آگے آجاؤ۔میں اور آگے چلا گیا۔جب میں آپ کے قریب پہنچا تو آپ نے اپنا ہا تھ لمبا کیا۔میرے سینہ پر اپنا ہاتھ پھیرا اور کہا اے خدا! تُو اس کے دل سے سارا کینہ اور بغض نکال دے۔وہ کہتا ہے رسول کریم صلی علیہ وسلم کے ہاتھ کا میرے سینہ پر سے ہٹنا تھا کہ مجھے یوں معلوم ہوا کہ دنیا کی ساری محبت میرے دل میں سمٹ آئی ہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اتنے کی پیارے معلوم ہونے لگے کہ اُن سے زیادہ پیارا مجھے دنیا میں اور کوئی وجود نظر نہیں آتا تھا۔پھر آپ نے فرمایا آگے بڑھو اور دشمن کا مقابلہ کرو۔وہ کہتا ہے اُس وقت یہ بات میرے واہمہ اور خیال میں بھی نہ رہی کہ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مارنے کے لیے آیا تھا بلکہ اُس کی بجائے آپ کی محبت کا اس قدر جوش میرے دل میں پیدا ہوا کہ خدا کی قسم! اگر اُس وقت جو بھی میرے سامنے آتا میں فوراً اُس کی گردن کاٹ دیتا۔4 اسی واقعہ سے معلوم ہو سکتا ہے کہ جب کسی انسان میں تغیر پیدا ہوتا ہے تو اُس کی تی حالت کیا سے کیا ہو جاتی ہے۔وہ ایک معمولی آدمی تھا۔وہ کفر کی حالت میں نکلا اور اس ارادہ کے ساتھ نکلا کہ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوقتل کر دوں گا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پھر جانے کی وجہ سے اُس میں ایسا تغیر پیدا ہو گیا کہ وہ آپ کی خاطر ہر بڑی سے بڑی قربانی کرنے کے لیے تیار ہو گیا۔کیا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اولاد سے امید نہیں کی جاسکتی کہ وہ اپنے اندر اتنا تو تغیر پیدا کریں جتنا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پھر جانے کی وجہ سے اُس انسان میں پیدا ہوا۔