خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 391 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 391

$1948 391 خطبات محمود یہی دستور ہے کہ وہاں شہر کا انتظام بالکل الگ ہاتھوں میں ہوتا ہے۔مثلاً ہر ضلع کا ایک سپرنٹنڈنٹ پولیس ہوتا ہے مگر بڑے شہروں کا پولیس افسر الگ ہوتا ہے جو کمشنر کہلاتا ہے۔بمبئی میں ضلع کا سپرنٹنڈنٹ الگ ہے اور شہر کا کمشنر پولیس الگ ہے۔اسی طرح کلکتہ کے ضلع کا سپر نٹنڈنٹ پولیس اور ہے اور کلکتہ شہر ا کمشنرز پولیس اور ہے کیونکہ اتنے بڑے شہر میں زائدا انتظامات کرنے ضروری ہوتے ہیں۔لاہور پہلا شہر ہے جہاں ہماری اتنی بڑی جماعت موجود ہے۔یوں تو کلکتہ اور بمبئی میں بھی جماعتیں ہیں مگر بمبئی میں کوئی سو ڈیڑھ سو آدمی ہیں اور کلکتہ میں دواڑھائی سو۔یہاں چار پانچ ہزار احمدی ہیں اور پھر یہ احمدی قریباً ہر محلہ میں پھیلے ہوئے ہیں۔وہاں صرف ایک دو محلوں میں ہی احمدی آبادی ہے۔اس وجہ سے اگر اور شہروں میں کوئی کمزوری اور نقص ہو تو وہ نمایاں نہیں ہوتا لیکن ہزاروں کا نقص نمایاں ہو جاتا ہے اور وہ سب کو نظر آنے لگ جاتا ہے۔کچھ تو اس وجہ سے کہ نقص اپنی ذات میں ایک عیب ہے اور کچھ اس نقص کے نمایاں ہونے کی وجہ سے نظر آ جاتا ہے۔انسان کے جسم پر اگر اُس کی گردن کے نیچے اور گھٹوں کے اوپر کوئی بد نما داغ ہو تو ساری عمر پاس رہنے والے دوست کو بھی شبہ تک نہیں ہو گا کہ اُس میں کوئی نقص پایا جاتا ہے لیکن اگر اُس کے منہ پر اُس داغ سے دسواں حصہ چھوٹا ایک تل پایا جا تاہو تو وہ سب کو نظر آجائے گا۔پس کسی نقص کا نمایاں ہونا یہ بھی انسان کو نگو 2 بنادیتا ہے۔لاہور کی جماعت چونکہ مختلف جگہوں میں پھیلی ہوئی ہے اور ہزاروں کی تعداد میں ہے اس لیے اگر کوئی نقص ہوتا ہے تو لازماً اس کی طرف زیادہ توجہ کرنی پڑتی ہے لیکن جہاں جماعت تھوڑی ہو وہاں نقص کا پتہ بھی نہیں لگتا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہمارے نقطہ نگاہ سے یہاں کی جماعت ابھی بہت تھوڑی ہے اور ضروری ہے کہ اسے ترقی دی جائے لیکن اور جماعتوں کے مقابلہ میں یہ جماعت اب بڑھ چکی ہے اور ضروری ہے کہ اس کی ایسے رنگ میں تنظیم کی جائے کہ ایک طرف تو سارے شہر کے مشتر کہ نظام کی صورت رہے اور دوسری طرف حلقے اپنے اپنے علاقوں میں مفید کام کر سکیں۔تمام دنیا میں یہی دستور ہے کہ بڑے شہروں کا نظام اور طرح چلایا جاتا ہے۔مثلاً لندن میں سارے شہر کے لیے کارپوریشن بھی ہے اور پھر الگ الگ وارڈوں میں الگ الگ میونسپل کمیٹیاں بھی ہیں جو اپنے علاقہ کی مخصوص ضروریات کا فکر رکھتی اور اُن کے بارہ میں تدابیر اختیار کرتی ہیں۔مثلاً وہاں تعلیم کارپوریشن کے سپرد