خطبات محمود (جلد 29) — Page 340
$1948 340 خطبات محمود جانے دو ایک مبلغ تو جماعت احمدیہ کے تمام بچوں کی صرف نماز کے متعلق بھی صحیح طور پر نگرانی نہیں کر سکتا دوسرے کام تو الگ رہے۔پس ایک مبلغ تمام شہر کی تبلیغ کے لحاظ سے قطعی طور پر کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ی محض خوش فہمی ہے کہ ہم ایک مبلغ رکھ کر یہ سمجھ لیں کہ شہر کی تبلیغی ضروریات کو ہم نے پورا کر دیا ہے۔غرض نئی مسجد بننے کے ساتھ ساتھ قدرتی طور پر دوسرے محلوں میں بھی مسجدوں کی تحریکیں شروع ہو جائیں گی اور اس طرح تبلیغ اور تعلیم و تربیت کے لحاظ سے بہت بڑی ترقی ہوگی۔یہ تو تمہارے نقطہ نگاہ سے ہے اور میرا نقطہ نگاہ یہ ہے کہ میں تو ایک شکاری ہوں۔جس طرح ایک شکاری اپنی کنڈی میں آٹا یا گوشت لگاتا ہے اسی طرح میں بھی تمہیں دوسری مسجد بنانے کی اس لیے تحریک کر رہا ہوں تا کہ تم تیسری مسجد بناؤ اور تیسری کے بعد چوتھی مسجد بناؤ۔میری نیت بھی یہی ہے کہ تم کو پھنسا ؤں اور تمہاری نیت بھی گو اس وقت صرف اتنی ہے کہ تم ایک اور مسجد بناؤ مگر میں سمجھتا ہوں کہ اس کے نتیجہ میں تم میں یہ احساس پیدا ہونا شروع ہو جائے گا کہ ہمارے محلوں میں کیوں مسجد نہیں۔اور پھر قدرتی طور پر مساجد کے ساتھ محلہ وار مبلغین کا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔حقیقت یہ ہے کہ اگر ہم صحیح طور پر تبلیغ کرنا چاہیں تو ہمیں آدمیوں کی تعداد کو بہر حال مد نظر رکھنا پڑے گا۔سترہ لاکھ کی آبادی میں اگر ایک مبلغ رکھا جائے تو سال بھر میں تو اُسے یہ بھی ہوش نہیں آئے گا کہ میں کس آدمی سے بات کروں۔یہ تو بالکل ایسی ہی بات ہے جیسے سمندر میں ہم کسی شخص کو ڈال دیں اور اُسے کہیں کہ وہ جا کر امریکہ فتح کرے۔اس نے امریکہ کیا فتح کرنا ہے۔وہ تو دو تین میل ہی جا کر ڈوب جائے گا اور مر جائے گا۔پس تبلیغ کی وسعت کے لیے بھی اس وقت نئی مسجد کی شدید ضرورت ہے۔میں نے مسجد کی زمین کے متعلق جو تحریک کی تھی مجھے خوشی ہے کہ جماعت نے اس تحریک کا نہایت اخلاص کے ساتھ جواب دیا ہے اور جو ان پر امید کی گئی تھی اُسے انہوں نے پورا کر دیا ہے۔خدا تعالیٰ کے فضل سے اب تک دس ہزار روپیہ کے وعدے آچکے ہیں۔مگر اس کے بعد اب دوسرا قدم یہ ہے کہ تم اپنے وعدے کا ایفاء کرو۔میں ایسے چندے کا قائل نہیں کہ وعدہ تو لکھا دیا جائے اور پھر خط وکتابت ہو رہی ہو، یاد دہانیاں کرائی جارہی ہوں، اخباروں میں اعلانات ہورہے ہوں اور لوگ خاموش بیٹھے ہوئے ہوں۔جب تک نئی مسجد نہیں بنے گی اور جب تک یہ مسجد چلا چلا کر یہ نہیں کہے گی کہ میرے لیے نمازی لاؤ تب تک تمہارے اندر بھی غیرت پیدا نہیں ہوگی اور تم تبلیغ کی طرف پوری توجہ نہیں کرو