خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 341 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 341

$1948 341 خطبات محمود گے۔اسی طرح جب تم خدا تعالیٰ کی راہ میں روپیہ دو گے اور تمہاری جیبیں خالی ہو جائیں گی تو تمہاری ہے جیبیں بھی اللہ تعالیٰ کے حضور پکار اٹھیں گی کہ خدایا! تری راہ میں خرچ کرنے کی وجہ سے ہم خالی ہوگئی ہی ہیں اب تو پھر اپنے فضل سے ہمیں بھر دے۔گویا تمہارا چندہ ادا کرنا تمہارے اندر ایک نئی انابت، ایک نیا خلوص اور ایک نیا ایمان پیدا کر دے گا اور تمہاری جیبیں بھی خدا تعالیٰ کے حضور فریاد کریں گی اور پھر خدا تعالیٰ اپنے فضل سے تمہارے روپیہ کو بھی بڑھا دے گا۔خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے والا اُس زمیندار سے بد بخت نہیں ہو سکتا جو چند سیر دانے زمین میں ڈال کر کئی ہزار من غلہ حاصل کر لیتا ہے۔اگر وہ دنیا کی خاطر دانے ڈال کر زیادہ کما لیتا ہے تو دین کی خاطر خرچ کرنے والا کب گھاٹے میں رہ سکتا ہے۔اگر کوئی گھاٹے میں رہتا ہے تو اس میں ضرور اُس کا اپنا قصور ہوتا ہے ورنہ ہم نے تو دیکھا ہے کہ دین کی خدمت کرنے والے اور خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنا روپیہ خرچ کرنے والے کبھی گھاٹے میں نہیں رہتے۔پس تم نے جو وعدہ کیا ہے اسے جلد پورا کرو تا کہ مسجد کے لیے زمین لی جا سکے۔اگر چھ مہینے یا سال کے بعد تم نے وعدہ پورا کیا تو نہ معلوم اُس وقت تک زمینوں کی کیا قیمت ہو جائے۔پس اپنے وعدے فوراً پورے کرو تا کہ جلد سے جلد زمین خریدی جاسکے۔دوسری بات یہ ہے کہ مقامی جماعت کے دوست فوری طور پر میٹنگ کر کے آج شام تک مجھے یہ اطلاع دیں کہ وہ کون کونسی سڑکوں پر اس مسجد کے لیے زمین کا خریدا جانا پسند کرتے ہیں۔سڑک ایسی ہونی چاہیے جہاں شہر کے لوگ آسانی کے ساتھ پہنچ سکتے ہوں۔مگر آسانی سے یہ مراد نہیں کہ انہیں کہیں دور جانا نہ پڑے۔یہاں بھی لوگ آخر سائیکلوں اور ٹانگوں وغیرہ پر آتے ہیں۔اگر وہاں بھی سائیکلوں وغیرہ پر پہنچا جاسکے تو اس میں کوئی حرج کی بات نہیں ہوگی۔جامع مسجد کے متعلق یہ خیال کر لینا کہ وہ گھر کے قریب ہو غلطی ہے۔پس جماعت کے دوستوں کو چاہیے کہ وہ چار پانچ جگہیں تلاش کر لیں۔پھر زمینوں کے کسی ایجنٹ سے مشورہ کر کے فور از مین خریدی جاسکتی ہے۔میرے نزدیک تین چار ہفتوں میں تمام کام ہو سکتے ہیں۔اگر دوست سچے دل سے اس کام میں لگ جائیں۔زمین خریدی جائے تو اس کے بعد جس طرح رتن باغ میں خیمے لگا کر جمعہ کی نماز ادا کی جاتی تھی۔اُس جگہ بھی خیمے لگا کر نماز یں پڑھی جاسکتی ہیں۔بہر حال جب جگہ لو گے تو تمہیں خیال پیدا ہوگا کہ ہم مسجد بنائیں اور جب مسجد بناؤ گے تو تمہارے دلوں میں یہ تحریک شروع ہوگی کہ ہم محلہ وار مسجد میں بنائیں اور جب محلہ وار مسجدیں بناؤ