خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 315 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 315

$1948 315 خطبات محمود آمدن ہو رہی ہے۔حالانکہ جماعت کے اخراجات اب بڑھ رہے ہیں اور آئندہ اور بڑھیں گے۔نئے مرکز کی بنیاد میں رکھی جارہی ہیں، دفاتر وغیرہ کے لیے نئی عمارات بنائی جائیں گی ، دفاتر کے سامان وہاں پہنچائے جائیں گے، ڈاک، تار اور ریل کے لیے کوشش کی جارہی ہے، پانی کا انتظام کرنا ہے، سڑکوں کا انتظام کرنا ہے، مہمان خانہ اور سکول بھی بنائے جانے ہیں۔اگر خرچ قلیل سے قلیل حد تک بھی رکھا جائے تب بھی یہ لاکھوں سے کم نہیں ہو گا۔کچی اور نیم کچی عمارات بھی بنائی جائیں تب بھی ان پر دس پندرہ لاکھ سے کم خرچ نہیں آئے گا۔اس وقت ضرورت تھی کہ جماعت قربانی کا اعلیٰ نمونہ دکھاتی اور اگست کے مہینہ تک جماعت اعلی قربانی کا نمونہ دکھا بھی رہی تھی مگر ستمبر کے مہینہ میں کوئی ایسی بات ہوگئی ہے جس کی وجہ سے چندہ کی روزانہ اوسط آمدن کم ہو گئی ہے۔میں سمجھتا تھا کہ قائد اعظم کی وفات کی وجہ سے چونکہ تین چھٹیاں ہو گئی تھیں اس لیے چندے رُک گئے ہیں اور تھوڑے عرصہ کے بعد یہ پھر شروع ہو جائیں گے۔لیکن اس پر بھی دو ہفتے گزر گئے ہیں لیکن تاحال چندوں میں کمی جاری ہے۔میں جماعت کے تمام افراد کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنے اندر تبدیلی پیدا کریں اور اُن پر جو ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں انہیں اٹھا ئیں۔اور چاہیے کہ ہمارے چندے کم از کم وصیت کے معیار تک پہنچ جائیں۔اگر کم از کم وصیت کے معیار تک ہمارے چندے پہنچ جائیں تو یہ یقینی بات ہے کوئی شبہ کی بات نہیں کہ ہماری جماعت کا بجٹ تمیں لاکھ تک پہنچ جائے گا۔اگر ایسا ہو جائے تو ہم اپنے نئے مرکز کو بھی مضبوط بنا سکتے ہیں ، سلسلہ کی جائیدادوں کو بھی مضبوط بنا سکتے ہیں اور آئندہ سلسلہ کی اشاعت کا بوجھ بھی اٹھانے کے قابل ہو سکتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ جماعت کے اندر ایسے امراء موجود ہیں جن کی جائیداد میں بڑی ہیں لیکن وہ ای اپنی ٹھیک آمدن بتانے میں بخل سے کام لیتے ہیں۔میں نے جماعت کو پہلے بھی توجہ دلائی تھی کہ ہماری ہے جماعت میں ایسے تاجر موجود ہیں جن کی جائیدادیں بہت بڑی ہیں مگر وہ ایک رقم بطور گزارہ مقرر کر لیتے ہیں اور چندہ بھی اُسی رقم پر دیتے ہیں۔مثلاً ایک تاجر کی آمدن دس ہزار ہوتی ہے مگر وہ دو ہزار کی رقم بطور گزارہ مقرر کر لیتا ہے۔یا اُس کی آمدن دو ہزار کی ہوتی ہے مگر وہ اپنا گزارہ تین سو روپیہ مقرر کر لیتا ہے اس خطبہ کے بعد ترقی ہوئی ہے اور ساڑھے تین ہزار، پونے چھ ہزار ، پونے سات ہزار اور پونے تین ہزار چار دن کی آمد تھی۔