خطبات محمود (جلد 29) — Page 308
$1948 308 خطبات محمود جماعت کو مرکز سے امداد کی ضرورت ہوتی ہے۔ہم نے وہاں ایک مبلغ بھجوانا ہے یا دو چار مبلغ بھجوانے ہیں۔ہم ان مبلغوں سے یہ خواہش رکھتے ہیں کہ وہ سلسلہ پر بار نہ بنیں بلکہ فتنہ کی جگہ پر مفت پہنچیں لیکن مبلغ کا ایمان اور اخلاص روپیہ پیدا نہیں کر سکتا۔ایک مبلغ یہی کر سکتا ہے کہ وہ کہے بہت اچھا میں ہوائی جہاز میں نہیں جاتاریل میں چلا جاتا ہوں۔یا کہے میں سیکنڈ کلاس میں نہیں جاتا انٹر میں چلا جاتا ہوں یا تھرڈ میں چلا جاتا ہوں۔یا کہے میں ریل میں نہیں جاتا لاری میں چلا جاتا ہوں۔یا کہے میں لاری میں نہیں جاتا تانگے میں چلا جاتا ہوں۔یا کہے میں تانگے میں نہیں جاتا گھوڑے یا گدھے پر چلا جاتا ہوں۔یا کہے میں گھوڑے یا گدھے پر نہیں جاتا پیدل ہی چلا جاتا ہوں۔مبلغ تو صرف یہی قربانی کر سکتا ہے مگر وہ روپیہ پیدا نہیں کرسکتا۔فرض کرو ہم یہاں بیٹھے ہیں اور بمبئی میں کوئی فتنہ پیدا ہو گیا ہے۔وہاں کی جماعت ہمیں ایک تار بھیج دیتی ہے کہ یہاں دشمن علماء کی یلغار ہوگئی ہے آپ ہماری مدد کریں اور مرکز سے مبلغ روانہ کریں۔ہمارے پاس وہاں بھیجنے کے لیے مبلغ موجود ہیں، ہمارے پاس ایسے لوگ موجود ہیں جو دین کی خدمت کے لیے اپنی زندگیاں پیش کردیں لیکن بمبئی یہاں سے ہزاروں میل دور ہے اور راستہ کے لیے کرایہ اور دیگر اخراجات کی ضرورت ہے۔اگر ہم اپنے مبلغوں کے لیے کسی سواری کا بندوبست نہ کر سکیں اور وہ وہاں پیدل جائیں تو لا زماوہ وہاں پانچ چھ مہینے میں پہنچیں گے۔وہ لوگ قربانی تو کریں گے، اپنی جان پیش تو کر دیں گے مگر کیا وہ مقصد جو اُن کے سامنے ہو گا پورا ہو جائے گا؟ کیا وہ بمبئی کے احمدیوں کی امداد کے قابل ہوسکیں گے؟ یہ تو یقینی بات ہے کہ اگر وہ پیدل جائیں تو وہ بمبئی میں اتنے عرصہ کے بعد پہنچیں گے کہ وہاں کے لوگوں کو اس فتنہ کی یاد بھی بھول چکی ہوگی۔وہ یہ جانتے بھی نہیں ہوں گے کہ یہ احمق یہاں کیوں آئے ہیں۔یہاں ان کا کیا کام ہے۔مولوی وہاں آئے اور چلے گئے۔اگر جماعت کو اسی خدا تعالیٰ نے فتح دی ہو گی تو کچھ نئے لوگ جماعت میں شامل ہو چکے ہوں گے اور اگر فتح نہیں دی تو کچھ لوگ مرتد ہو چکے ہوں گے۔اُس وقت ہمارے مبلغ وہاں پہنچیں گے اور کہیں گے ہم غیر احمدی علماء سے بحث کرنے کے لیے یہاں آئے ہیں۔کیا ان کا وہاں ایسے وقت میں جانا جبکہ فتنہ کی یاد بھی بھول چکی ہوگی جماعت کے لیے کسی فائدہ کا موجب ہو سکتا ہے؟ غرض ہماری جماعت کے لیے صرف جانی قربانی ہی کافی نہیں بلکہ ہمارے لیے روپیہ کی بھی ضرورت ہے۔