خطبات محمود (جلد 29) — Page 302
$1948 302 خطبات محمود اگر دنیوی طور پر بڑا کہلانے والے آدمی سلسلہ کے خادم ہیں اور جماعت کی ادنیٰ ادنی ضرورتوں میں حصہ لیتے ہیں اور وہ خلافت کی غلامی اور اس کی اطاعت میں فخر محسوس کرتے ہیں تو وہ اور بھی بڑے وجائیں گے۔اور اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو اس جماعت نے تو بہر حال بڑھنا اور ترقی کرنا ہے لیکن وہ لوگ گریں گے اور ان کے گرنے میں تم میں سے بہت سے منافقوں کا حصہ ہو گا جنہوں نے ان کے دماغ خراب کر دیئے ہوں گے۔بہر حال اب وقت آ گیا ہے کہ اس نقص کی اصلاح کی جائے۔میں اس وقت منافقوں کو مخاطب نہیں کرتا۔منافق تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی آخر تک قائم رہے ہیں۔میں مومنوں کو کہتا ہوں کہ بڑائی وہی ہے جو جماعت کی خدمت کی وجہ سے حاصل ہوتی ہے۔کوئی دنیوی بڑائی ہماری جماعت میں بڑائی نہیں، کوئی دنیوی ترقی ہماری جماعت میں ترقی نہیں۔ہماری جماعت میں بڑائی اور ترقی صرف خدمت دین کے ساتھ وابستہ کبھی جانی چاہیے اور خدمت دین کا ہی رنگ اپنے ہر کام کو دینا چاہیے۔خدمت دین کے لحاظ سے ایک مالدار آدمی بھی بڑا آدمی ہو سکتا ہے لیکن جب وہ خدمت دین کی وجہ سے بڑا بنتا ہے تو اس کی وجاہت اور اس کی عزت اور اس کے مال و دولت سے ناجائز فائدہ اٹھانا درست نہیں ہو سکتا۔یہ تو نہیں کہ اگر ظفر اللہ خان نے حکومتِ پاکستان کے منسٹر ہیں یا پچھلی گورنمنٹ میں بج رہ چکے ہیں تو ان دنیوی عہدوں کی وجہ سے خدا تعالیٰ کے قرب کا حصول ان کے لیے ممنوع ہو گیا ہے یا ان کے علاوہ اگر کوئی اور بڑا افسر ہماری جماعت میں شامل ہے تو کیا خدا تعالیٰ نے اپنے قرب کے دروازے اس کے لیے بند کر دیئے ہیں؟ اگر اس کے دروازے ہر شخص کے لیے کھلے ہیں تو الہی دروازوں میں سے مالدار اور دنیوی لحاظ سے معزز آدمی گزر کر بھی بڑے سے بڑے ولی اور بزرگ ہو سکتے ہیں۔لیکن اگر ہم روحانی نقطہ نگاہ سے ان کو بڑا نہ سمجھیں اور ان کی دنیوی وجاہت سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ ہم خود بھی بے ایمان بنتے ہیں اور اُن کے ایمان کو بھی کمزور کرتے ہیں۔ہم اگر ان کو بڑائی دیتے ہیں تو محض دینی لحاظ سے۔چنانچہ جماعت میں جو بڑے آدمی ہیں ہم اُن کو صرف اُسی قدر بڑا سمجھے ہیں جس قدروہ دین کی خدمت کرتے ہیں۔ہم اُن کو اس لیے بڑا نہیں سمجھتے کہ دنیوی طور پر جماعت ان۔فائدہ اٹھا سکتی ہے بلکہ اس لیے بڑا سمجھتے ہیں کہ دینی طور پر خدا نے ان کو ایک درجہ دے دیا ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے اپنے وقت میں ہر ایک سے دین کا کام لے لیتا ہے خواہ وہ امیر ہو یا غریب۔اور اس میں