خطبات محمود (جلد 29) — Page 276
$1948 276 خطبات محمود سارے کے سارے قریباً مخالف ہو گئے تھے۔اُس وقت جماعت کا اکثر حصہ مخالف تھا۔یہاں تک کہ پیغام صلح" میں یہ شائع ہوا تھا کہ صرف جماعت کا پانچ فیصدی حصہ میاں محمود کے ساتھ ہے۔اُس وقت مجھے الہام ہوا ” کون ہے جو خدا کے کاموں کو روک سکے۔چنانچہ میں نے اسے شائع کرادیا اور لکھا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے یہ کہا ہے۔ابھی اس الہام پر دو مہینے بھی نہیں گزرے تھے کہ جماعت کا پچانوے فیصدی حصہ میرے ساتھ شامل ہو چکا تھا اور صرف پانچ فیصدی حصہ باہر تھا۔پھر خدا تعالیٰ نے جماعت کو ترقی دینی شروع کی اور ہندوستان سے باہر بھی ہمارے مشن قائم ہو گئے۔سارے کے سارے مشن میرے ہی زمانہ میں قائم ہوئے ہیں۔اس سے پہلے ہمارا ایک بھی مشنری باہر نہیں تھا۔خواجہ کمال الدین صاحب جولندن گئے اُن کے متعلق ہر ایک جانتا ہے کہ وہ دراصل رضوی صاحب کا جو نظام حیدر آباد کی پھوپھی زاد بہن کے خاوند تھے مقدمہ لڑنے لندن گئے تھے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان میں بھی ہمارا کوئی با قاعدہ مبلغ نہیں تھا۔صرف شیخ غلام احمد صاحب واعظ کو انجمن سفر خرچ دیا کرتی تھی اور وہ دورہ کیا کرتے تھے۔لیکن میرے زمانہ میں خدا تعالیٰ نے جو جماعت کو دن بدن ترقی دی تو مبلغ بھی بن گئے ، مشن بھی بن گئے اور جماعت کہیں کی کہیں جا پہنچی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وقت میں جو آخری جلسہ سالانہ ہوا اُس میں صرف 700 آدمی تھے۔حضرت خلیفتہ المسیح الاول کے زمانہ میں جو آخری جلسہ سالا نہ ہوا اُس میں دو اڑھائی ہزار آدمی جمع ہوئے تھے مگر قادیان میں میرے ہر خطبہ جمعہ میں چار پانچ ہزار آدمی جمع ہو جاتے تھے اور جلسہ سالانہ پر تو چالیس ہزار سے بھی تعداد بڑھ جاتی تھی۔پس حقیقت یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی باتوں کو کوئی روک نہیں سکتا۔انسان کی نظر پہلے پیج پر پڑتی ہے۔واقف آدمی جب دیکھتا ہے کہ بیج اچھا ہے تو وہ فورا سمجھ لیتا ہے کہ فصل بھی اچھی ہوگی مگر نا واقف آدمی اس انتظار میں رہتا ہے کہ جب فصل بڑی ہو جائے گی تو دیکھیں گے۔میرا یہاں آنا بھی ایسا ہی تھا۔ہر ایک کام جو کیا جاتا ہے اس کی ایک ابتدا ہوتی ہے اور ایک انتہا ہوتی ہے۔میرے اس سفر کی ابتدا تو یہ تھی کہ میں عموماً اپنی صحت کو برقرار رکھنے کے لیے رمضان میں کسی ٹھنڈی جگہ پر چلا جاتا ہوں۔اس دفعہ میں نے یہاں کے دوستوں کو لکھا کہ آیا کوئٹہ میں رہائش کا بندوبست ہو جائے گا ؟ تو انہوں نے مجھے اطلاع دی کہ انتظام ہو جائے گا۔پہلے انتظام ناقص تھا۔دوست کچھ اور سمجھتے تھے مگر جب وہ سمجھ گئے