خطبات محمود (جلد 29) — Page 272
$1948 272 خطبات محمود گیت گائے ہوں گے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش پر آپ کے گھر کے پاس سے گزرنے والے یہ خیال کرتے ہوں گے کہ ایک غریب کے ہاں بچہ پیدا ہوا ہے جو خود بخود ختم ہو جائے گا۔لیکن ابوجہل کی پیدائش پر اس کے گھر کے پاس سے گزرنے والے یہ سمجھتے ہوں گے کہ آج ایک رئیس پیدا ہوا ہے، نہ معلوم بڑا ہو کر یہ کیا کچھ کرے گا۔غرض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ابتدا بظاہر ایک ادنی رنگ میں ہوئی لیکن انتہا کیا ہوئی؟ وہی بچہ جس کو دائیاں لینے کے لیے تیار نہیں تھیں، جس کی پیدائش پر مکہ والوں نے کوئی خوشی نہیں منائی تھی ، جس کی پیدائش پر مکہ والوں نے کوئی نوٹس نہیں لیا تھا جب فوت ہوا تو وہ عرب کی تاریخ میں ہی نہیں دنیا کی تاریخ میں ایک غیر معمولی حیثیت رکھتا تھا۔سارے عرب قبائل اس کے زیر سایہ تھے جو آپ سے پہلے کسی بادشاہ کے مطیع نہیں ہوئے تھے۔پھر بادشاہوں کو جو ظاہری عظمت حاصل ہوتی ہے اس کی وجہ سے ڈر کے مارے لوگ ان کی بزرگیاں بیان کرتے ہیں لیکن دل میں انہیں ہزاروں ہزار گالیاں دیتے ہیں۔بادشاہ جب مر جاتے ہیں تو بے شک ان کی موت سے ملک کو صدمہ بھی ہوتا ہے لیکن لوگ یہی کہتے ہیں کہ ایک بادشاہ اگر مر گیا ہے تو کوئی دوسرا شخص بادشاہ بن جائے گا اور وہ وہی کام شروع کر دے گا جو پہلا بادشاہ کرتا تھا۔انگریزی میں ایک مثل ہے king neverdies یعنی بادشاہ کبھی نہیں مرتے۔ایک بادشاہ مرجاتا ہے تو دوسرا کھڑا ہو جاتا ہے اور پہلے بادشاہ اور دوسرے بادشاہ میں کوئی نمایاں فرق نہیں ہوتا۔اگر قوم بیدار ہوتی ہے تو دوسرے بادشاہ کے وقت میں بھی وہ ترقی کرتی چلی جاتی ہے۔لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق یہ نہیں کہا جا سکتا کہ آپ کی وفات کو تمام عرب نے جو اُس وقت آپ کی خوبیوں ، اہمیت اور عظمت کا قائل ہو چکا تھا ایک انسان کی موت خیال نہیں کیا ، ملک کی موت خیال نہیں کیا بلکہ دنیا کی موت خیال کیا۔چنانچہ حسان بن ثابت نے آپ کی وفات پر جو شعر کہے وہ یہ ہیں كُنتَ السَّوَادَ لِنَاظِرِى فَعَمِيَ عَلَيَّ النَّاظِرُ مَنْ شَاءَ بَعْدَكَ فَلْيَمُتُ فَعَلَيْكَ كُنْتُ أُحَاذِرُ 1 یارسول اللہ ! كُنتَ السَّوَادَ لِنَاظِرِی آپ میری آنکھوں کی پتلی تھے۔آپ کی وفات نہیں ہوئی بلکہ میری آنکھیں اندھی ہوگئی ہیں۔اب کوئی بادشاہ مرتا پھرے مجھے اُس سے کیا۔میں تو آپ کے متعلق ہی ڈرتا تھا۔یہ وہ جذبہ عقیدت تھا جو آپ کے متعلق صحابہ میں پایا جاتا تھا۔