خطبات محمود (جلد 29) — Page 218
$1948 218 خطبات محمود کوئی ضرورت ہوئی تو وہ میں کہاں سے پوری کروں گا ؟ ماں نے کہا وہ انعاموں سے پوری کر لینا۔بیٹے نے کہا کہ انعام کیسے ملتے ہیں؟ تو ماں نے کہا اچھے آقا اپنے نوکروں کو انعام دیا کرتے ہیں۔بیٹے نے کہا اگر وہ نہ دے؟ ماں نے کہا جب خوش ہو انعام مانگ لیا کرنا۔بیٹے نے کہا مجھے کیسے پتہ چلے گا کہ وہ خوش ہوا ہے؟ ماں نے کہا میں تمہیں بتاتی ہوں۔جب وہ ہنسے گا تو سمجھ لینا وہ خوش ہو گیا ہے۔پھر اس سے انعام مانگ لینا۔کچھ عرصہ کے بعد وہ امیر آدمی سفر پر گیا۔راستے میں وہ ایک سرائے میں ٹھہرا۔رات کو بارش شروع ہو گئی۔اس امیر آدمی نے نوکر سے کہا کہ لیمپ بجھا دو۔مجھے روشنی میں نیند نہیں آتی۔نوکر نے جواب دیا منہ پر لطاف لے لو خود بخوداند ھیرا ہو جائے گا کیونکہ مجھے بھی اندھیرے میں نیند نہیں آتی۔وہ امیر آدمی اسے بچہ سمجھ کر چپ ہو رہا۔پھر کچھ دیر کے بعد اس نے کہا کہ جاؤ دیکھو کہ کیا بارش ہو رہی ہے؟ نوکر نے چار پائی پر لیٹے ہوئے ہی جواب دے دیا ہاں بارش ہو رہی ہے۔مالک نے پوچھا تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ بارش ہو رہی ہے؟ نوکر نے جواب دیا میرے پاس سے ایک بلی گزری ہے۔میں نے اس پر ہاتھ مار کر دیکھا ہے وہ بھیگی ہوئی تھی۔پھر مالک نے کہا کہ ہوا ٹھنڈی آ رہی ہے کواڑ بند کر دو۔نوکر نے جواب دیا۔دو کام میں نے کیے ہیں یہ کام آپ کر لیں۔مالک اپنے نوکر کی بیوقوفی پر ہنس پڑا۔اس پر وہ لڑکا فوراً کھڑا ہو کر کہنے لگا کہ حضور!! انعام دیجیے۔یہی حال سرسری تبلیغ کا ہے۔مطلب کی بات پر تو ہر ایک خوش ہو جاتا ہے۔مطلب کی باتیں کسی کے سامنے پیش کر دینے سے تبلیغ کا فرض ادا نہیں ہوتا اور نہ ایسی تبلیغ سے کوئی نتیجہ نکلتا ہے۔بلکہ ایسے مسائل پیش کرنے چاہیں جس سے وہ اختلاف رکھتے ہیں۔پھر ایسی صورت سے پیش نہیں کرنے چاہیں جس سے وہ چڑ جائیں بلکہ اس طرح پیش کرنے چاہیں کہ ان کے اندر صداقت کو قبول کرنے کا میلان پیدا ہو جائے۔اگر تمہارا کوئی دوست ہے تو اس سے پوچھو کہ دیکھو بھائی میں تم سے اتنی دیر سے ملتا جلتا رہا ہوں یا تو میں بے ایمان ہوں یا تم بے ایمان ہو۔دونوں میں سے ایک بات ضرور ہے۔میں تو تمہیں سمجھاتا رہا ہوں۔اگر میری باتیں ٹھیک ہیں، اگر میری باتوں کا تم پر اثر ہے اور تم سمجھتے ہو کہ میں صحیح راستہ پر ہوں تو پھر تم کیوں سزا کو قبول کرتے ہو اور جہنم میں پڑتے ہو۔لیکن اگر تم سمجھتے ہو کہ میں غلط راستہ پر ہوں تو پھر تمہیں چاہیے کہ مجھے سمجھاؤ تا میں غلط راستہ کو چھوڑ کر تمہارے ساتھ ہو جاؤں گا۔اس طرح وہ اپنا اندرونہ آپ پر کھول دے گا۔اگر اسے آپ کی کچھ باتیں سمجھ نہیں آئیں تو وہ باتیں تمہیں بتائے گا کہ