خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 208 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 208

$1948 208 خطبات محمود انسانی عقل کا اس میں چنداں دخل نہیں ہوتا۔یہ تو خدا کا فضل ہے کہ وہ ہمیں دولت دیتا ہے۔سب دولت محض خدا کی طرف سے آتی ہے۔اگر کوئی اس میں بخل سے کام لیتا ہے تو یہ اس کی غلطی ہے۔ہاں اگر کوئی بخیل ہے تو وہ معذور ہے۔ایک شخص مانتا ہے کہ خدائی تحریکات کوئی چیز نہیں، اگلا جہان کوئی چیز نہیں اور جو خدا کہتا ہے وہ غلط ہے تو وہ معذور ہے۔مگر جو ان چیزوں کو مان کر بھی بخل سے کام لیتا ہے وہ غلطی کرتا ہے۔پس میں یہاں کی جماعت کے دوستوں کو اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ وہ جماعت کے فنانشل سیکرٹری سے تعاون کریں اور انہیں صحیح آمد نیں بتائیں تا ان کا حساب ٹھیک ہو۔اگر کوئی شخص اپنی آمد نہیں بتانا چاہتا تو پھر وہ سو میں سے دس ہی دے۔بیت المال والوں کو بھی اس قسم کی ہدایات ملی ہوئی ہیں کہ وہ کسی کی آمدن کو ظاہر نہ کریں اور اُسے راز کے طور پر رکھیں۔گورنمنٹ بھی اُسے راز کے طور پر رکھتی ہے۔بنکوں کو لے لو۔بنگ کا حساب کسی دوسرے کو نہیں بتایا جا سکتا۔ایک دفعہ ایک ذمہ دار افسر سے گفتگو میں یہ ذکر آ گیا کہ ایک شخص باہر سے فساد پیدا کر رہا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اُس کے پاس روپیہ کہاں سے آتا ہے؟ میں نے کہا کہ میں بتاؤں کہ اُس کے پاس روپیہ کہاں سے آیا؟ فلاں شخص کو امریکہ سے روپیہ آتا ہے اور فلاں بنک میں جمع ہوتا ہے۔وہاں سے وہ روپیہ باہر جاتا ہے اور اُس شخص تک پہنچتا ہے۔میں نے بنک کا نام بھی بتایا۔اُس نے بتایا کہ یہ سارے امکانات ہو سکتے ہیں۔آپ نے ٹھیک اندازہ لگایا ہے۔ہمارے خیال میں یہ بات نہ تھی کہ دشمن کو ہمارے ملک میں سے ہو کر روپیہ جاتا ہے لیکن قرائن سے آپ کی بات صحیح معلوم ہوتی ہے۔میں نے کہا کہ پھر بنک میں سے پتہ کر لو یح علم حاصل ہو جائے گا۔اُس نے کہا کہ اکاؤنٹ ایک راز ہوتا ہے اور بنک بھی نہیں بتائے گا۔پس اگر کوئی شخص یہ چاہتا ہے کہ اُس کی آمد راز میں رہے تو بیت المال والوں کو بھی چاہیے کہ وہ اُسے راز میں رکھیں۔لیکن اگر کوئی شخص اپنی صحیح آمدن نہیں بتاتا تو اس کے لیے کئی گنا بہتر ہوتا کہ وہ سو میں سے دس چندہ دیتا۔بجائے اس کے کہ وہ سو کی بجائے چالیس آمد لکھوا کر اُس کا پچیس فیصدی وعدہ لکھواتا۔یہ چیز اُس کی موجودہ نیکیوں کو ہی برباد نہیں کرتی بلکہ اُس کی پرانی نیکیوں کو بھی برباد کر دیتی ہے اور اُسے فائدہ کی بجائے نقصان ہوتا ہے۔اگر وہ سو میں سے دس چندہ دیتا تو اُس کے لیے آگے بڑھنے کا بھی موقع نکل آتا اور وہ قربانی میں اور ترقی کر سکتا۔مگر جب وہ اپنے قول کے لحاظ سے آخری حد تک پہنچ گیا