خطبات محمود (جلد 29) — Page 207
$1948 207 خطبات محمود رہا اور پھر چلا گیا۔اُس دوست نے مجھے بتایا کہ احساس خودداری کی وجہ سے یہ مانگتا نہیں۔صرف تھوڑی دیر کے لیے گردن اکڑا کے کھڑا ہو جاتا ہے اور کوٹ جاتا ہے۔ایسا کرنے سے یہ بتانا مقصود ہوتا ہے کہ اگر تم نے میرا حق دینا ہے تو دے دوور نہ میں مانگتا نہیں۔ابھی دیکھ لو مشرقی پنجاب سے بعض لوگ ایسے آئے ہیں جن کا وہاں ہزاروں کا نقصان ہو گیا ہے۔مگر وہ کسی سے مانگتے نہیں۔اُن میں ہمت پائی جاتی ہے، وہ کام کرنا چاہتے ہیں اور کسی سے مانگتے نہیں۔نقصان جو ہونا تھا وہ تو ہو گیا۔اب دیکھنا یہ ہے کہ اُس نقصان کی وجہ سے اُن کے دل کی کیا حالت ہے۔قادیان میں میری لاکھوں کی جائیداد تھی۔میری کوٹھی دار الحمد کی موجودہ قیمت دس لاکھ تھی۔اور پھر یہی جائیداد ہی نہیں تھی بلکہ اور بھی جائیداد تھی۔قادیان میں جائیدادوں کی قیمتیں یکدم بڑھ گئی تھیں اور اس طرح ہمارے خاندان کی ایک کروڑ سے بھی زیادہ قیمت کی جائیدا تھی۔لیکن مجھے ایک لمحہ کے لیے بلکہ ایک سیکنڈ کے کروڑویں حصہ کے لیے بھی اس کا کبھی خیال نہیں آیا کہ میرا کوئی نقصان ہو گیا ہے۔مجھے تو اس کا احساس ہی نہیں ہوتا بلکہ دوسرے کے سامنے ذکر کرنے سے شرم آتی ہے کہ یہ بھی کوئی چیز ہے۔آخر ہمارا کو ساحق تھا اور ہم نے کونسی خدمت کی تھی کہ جس کے بدلہ میں خدا نے ہمیں یہ جائیداد دی، ہمارے باپ دادوں کی وجہ سے یہ جائیداد ہمارے ہاتھ آئی۔خدا نے قادیان کو بڑھایا، لوگ ہجرتیں کر کے قادیان آگئے۔جائیداد کی قیمت بڑھ گئی اور اتنی بڑھی کہ ہزار گنا ہو گئی۔میری کوٹھی دار احمد بیس ہزار روپیہ میں تیار ہوئی تھی اور اُس کی زمین پچاس ہزار روپیہ کی تھی۔اب اُس کی قیمت ہیں ہزار سے دس لاکھ ہوگئی تھی۔قادیان کے بعض ٹکڑوں کی قیمت نہیں ہیں ہزار روپے فی کنال ہم نے خود دی ہے۔کیا یہ جائیداد میں ہم نے خود بنائی تھیں یا ہم نے خود خریدی تھیں؟ اُس خدا نے ہم کو یہ جائیدادیں دیں۔اُسی نے بھاؤ بڑھا دیئے۔اُسی نے گاہک بھیجے اور اس طرح ہماری جائیداد کو کئی گنا زیادہ کر دیا۔ہمارا اس میں کوئی دخل نہ تھا۔دنیوی لحاظ سے تو میں اسے کچھ نہیں سمجھتا خواہ وہ جائیداد ہمیں واپس ملے یا نہ ملے۔لیکن چونکہ قادیان ہمارا دینی مقام ہے، اس کی عظمت کی وجہ سے ہماری یہ خواہش ہے کہ وہ جگہ ہمیں واپس مل جائے۔ورنہ اگر نہ بھی ملے تو کوئی افسوس نہیں۔میں تو یہ خیال کر رہا ہوں کہ جماعت میں تحریک کروں کہ اب اگر دوست واپس قادیان جائیں تو اپنی جائیدادیں وقف کر کے جائیں تا قادیان خالص مذہبی مقام ہو جائے۔دنیا میں دوستیں آتی بھی ہیں اور جاتی بھی ہیں۔