خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 168 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 168

$1948 168 خطبات محمود تھے کہ مدینہ والوں کا اکثر حصہ یا تمام لوگ بہت جلد مسلمان ہو جائیں۔جب یہ وفد آیا تو اس نے بیعت بھی کی اور اس بات کا اظہار بھی کیا کہ ہمارا شہر آپ کو پناہ دینے کے لیے تیار ہے اور ہمارے رؤسائے شہر نے ہم کو یہ اختیار دیا ہے کہ ہم آپ سے معاہدہ کریں کہ آپ مدینہ تشریف لے چلیں ہم آپ کی پوری طرح حفاظت کریں گے۔لیکن ہماری شرط یہ ہوگی کہ جب تک مدینہ پر دشمن حملہ آور ہو ہم اس معاہدہ کے پابند ہوں گے اور آپ کی حفاظت کریں گے لیکن مدینہ سے باہر نکل کر اگر لڑائی کرنی پڑے تو ہم نہیں سمجھ سکتے کہ ہم میں اتنی طاقت ہو کہ ہم باہر نکل کر دشمنوں کا مقابلہ کر سکیں۔اس لیے اگر با ہر لڑائی ہوئی تو ہم اس بات کے پابند نہیں ہوں گے کہ اس لڑائی میں ضرور شامل ہوں۔متفرق امور پر گفتگو کرنے کے بعد حضرت عباس نے اُس وفد سے معاہدہ کیا جس میں انہوں نے یہ بات دُہرائی کہ ہم آپ سے یہ عہد کرتے ہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے ملک میں آئیں گے تو جب تک آپ مدینہ میں ہوں گے ہم آپ کی حفاظت کے لیے اپنی جان، مال، عزت اور آبر وغرض سب کچھ قربان کر دیں گے لیکن جب آپ مدینہ سے باہر نکل کر لڑے تو ہم اس عہد کے پابند نہیں ہوں گے۔2 ان سب نے اقرار کیا کہ یہ ٹھیک ہے۔اس کے بعد کچھ عرصہ تک تو مدینہ میں جانے کا موقع پیدا نہ ہوالیکن بعد میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم نازل ہوا اور آپ ہجرت کر کے مدینہ تشریف لے گئے۔مدینہ پہنچنے کے بعد بھی دشمن نے متواتر ریشہ دوانیاں کیں اور ایک وقت ایسا آگیا کہ مدینہ اور مکہ والوں کے درمیان لڑائی کے سامان پیدا ہو گئے جو بدر کی جنگ کے نام سے مشہور ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اطلاع ملی کہ ابوسفیان ایک تجارتی قافلہ کے ساتھ شام کی طرف سے آ رہا ہے اور وہ رستہ میں تمام قبائل کو مسلمانوں کے خلاف اکساتا چلا آتا ہے۔قافلہ کا رستہ بھی مدینہ کے پاس سے گزرتا تھا۔ایسا قریب تو نہیں تھا مگر مکہ کی نسبت مدینہ سے زیادہ قریب تھا۔سارے قبائل جو مدینہ کے ارد گر درہتے تھے وہ شام سے آنے والے قافلہ سے ملتے اور تجارتی چیزوں کا آپس میں تبادلہ کرتے تھے۔اس لیے شام سے جو قافلہ آتا تھا اُس کے تعلقات مدینہ کے تمام قبائل سے ہو جاتے تھے۔اور چونکہ اس قافلہ میں ایسے لوگ موجود تھے جو مسلمانوں کے خلاف لوگوں کو اُکساتے اور اشتعال دلاتے تھے اس لیے جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ علم ہوا کہ ابوسفیان قافلہ کو لے کر مدینہ کے پاس سے گزر رہا ہے اور یہ بھی علم ہوا کہ مکہ والے بھی اس خیال سے کہ قافلہ پر مدینہ والے حملہ نہ کر دیں کچھ شکر لے کر نکلے ہیں تو آپ نے