خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 169 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 169

$1948 169 خطبات محمود اپنے دوستوں سے مشورہ لیا کہ اگر ہم مدینہ میں بیٹھے رہے تو دشمن دلیر ہو جائے گا۔ہمیں آگے چلنا چاہیے تا دشمن یہ نہ سمجھے کہ ہم اُس سے ڈرتے ہیں۔چنانچہ آپ صحابہ کی ایک جماعت کو لے کر مدینہ سے باہر تشریف لے گئے اور بدر کے مقام پر پہنچے۔الہی کلام سے آپ کو معلوم ہو چکا تھا کہ مکہ سے ایک لشکر آرہا ہے جس کے ساتھ اسلام کا مقابلہ ہو گا لیکن آپ کو یہ اجازت نہ تھی کہ اس خبر کو ظاہر کریں۔نتیجہ یہ نکلا کہ مدینہ سے بہت کم لوگ آپ کے ساتھ گئے کیونکہ وہ اسے لڑائی نہیں سمجھتے تھے بلکہ اسے صرف جرات کے اظہار کا ایک ذریعہ سمجھتے تھے۔بدر کے مقام کے قریب جا کر آپ نے مناسب سمجھا کہ اب یہ بات ظاہر کر دی جائے۔آپ نے لوگوں کو جمع کیا اور فرمایا اے لوگو! مجھے خدا نے کہا ہے کہ دشمن کا لشکر قریب آگیا ہے اور بجائے اس کے کہ قافلہ سے لڑائی ہو شاید اسی سے لڑائی ہو جائے۔تمہاری اس بارہ میں کیا رائے ہے؟ مہاجرین صحابہ یکے بعد دیگرے کھڑے ہونے شروع ہوئے اور انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! ہم لڑنے کے لیے تیار ہیں۔لیکن انصار نہ بولے۔وہ اس لیے نہ بولے کہ جو فوج آ رہی تھی اُس میں مہاجرین کے بھائی، بہنوئی ، سالے، بچے اور تائے وغیرہ کے بیٹے اور اسی طرح اور قریبی رشتہ دار تھے۔انہوں نے خیال کیا کہ اگر ہم نے کہا ہم لڑنے کے لیے تیار ہیں تو مہاجرین سمجھیں گے کہ ہمیں اُن کے رشتہ داروں سے لڑنے کا بڑا شوق ہے۔اُن کی دلجوئی اور اپنے مہمانوں کی عزت کی وجہ سے سب انصار خاموش رہے۔مہاجر یکے بعد دیگرے اُٹھے اور اُٹھ اٹھ کر قربانی کی رغبت، ایثار اور فدائیت کے جوش کا اظہار کرتے لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر صحابی کی تقریر کے بعد فرماتے اے لوگو! مجھے مشورہ دو۔جب متواتر آپ نے یہ بات دہرائی تو ایک انصاری اٹھے اور انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! آپ کو مشورہ تو دیا جا رہا ہے لیکن باوجود مشورہ پیش کیے جانے کے آپ یہی فرماتے ہیں کہ اے لوگو! مجھے مشورہ دو۔شاید آپ کی مُرادلوگوں سے ہم انصار ہیں کہ ہم مشورہ دیں۔ورنہ مشورہ تو آپ کو مل رہا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ٹھیک ہے میری یہی مراد تھی۔3 پھر اس صحابی نے کہا یا رسول اللہ ! ہم نے آپ سے مکہ میں ایک بیعت کی تھی اور اقرار کیا تھا کہ اگر دشمن مدینہ میں حملہ آور ہوا تو ہم ہر طرح سے اُس کا مقابلہ کریں گے۔لیکن مدینہ کے باہر اگر لڑائی ہوئی تو ہم اس معاہدہ کے پابند نہیں ہوں گے کیونکہ ہمارے اندر اتنی طاقت نہیں کہ سارے عرب سے لڑ سکیں۔شاید آپ جو بار بار ہم سے مشورہ چاہتے ہیں تو آپ کا اشارہ اُس معاہدہ کی طرف ہے۔آپ نے فرمایا ٹھیک ہے۔اُس انصاری نے یہ