خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 104 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 104

$1948 104 خطبات محمود کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بچے ہیں یا نہیں ؟ اگر یہ فیصلہ کرنا باقی ہے تو میں تمہیں کہوں گا ابھی ٹھہر جاؤ اور سو چومحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بچے ہیں یا نہیں ؟ میں اس پر اعتراض نہیں کرتا۔میں خود جبکہ ابھی بچہ تھا ایک دفعہ سوچنے لگا کہ آیا حضرت مرزا صاحب واقع میں بچے ہیں یا نہیں ؟ اور میں نے فیصلہ کیا کہ اگر مجھ پر یہ ثابت ہو گیا کہ آپ سچے نہیں تو پھر میں اس گھر میں داخل نہیں ہوں گا بلکہ کہیں باہر نکل جاؤں گا۔حالانکہ اس وقت میری عمر صرف گیارہ سال تھی۔پس میں تمہاراحق بھی تسلیم کرتا ہوں۔تم کہہ سکتے ہو کہ ہم یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سچے ہیں یا نہیں ؟ تم کہہ سکتے ہو کہ ہم یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ مرزا صاحب نے جو دعوای کیا ہے اُس میں وہ بچے ہیں یا نہیں؟ بلکہ تمہارا یہ بھی حق ہے کہ تم سوچو جس خلیفہ کے ہاتھ پر تم نے بیعت کی ہے یہ سچا ہے یا نہیں ؟ اگر کوئی شخص بنی نوع انسان کو اس فیصلہ کا اختیار دینے سے انکار کرتا ہے تو وہ دنیا میں منافقت پیدا کرنا چاہتا ہے، وہ دنیا میں جہالت پیدا کرنا چاہتا ہے، وہ دنیا میں بے ایمانی پیدا کرنا چاہتا ہے۔بلکہ لوگوں کا یہ بھی حق ہے کہ وہ سوچیں کہ آیا کوئی خدا ہے یا نہیں ؟ مگر جب فیصلہ ہو جائے کہ خدا ہے ، جب فیصلہ ہو جائے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بچے ہیں تو پھر کسی کا کوئی حق نہیں رہتا کہ وہ کہے میں یوں کروں گا کیونکہ میرے نزدیک یہ زیادہ مناسب ہے۔اُسے وہی کچھ کرنا پڑے گا جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا۔آپ لوگ بھی ایک دفعہ فیصلہ کریں کہ اس دنیا کا کوئی خدا ہے یا نہیں؟ اورمحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سچے رسول ہیں یا نہیں؟ اگر ثابت ہو جائے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بچے ہیں تو جس طرح بھیٹرمیں ایک دوسرے کے پیچھے گو دتی چلی جاتی ہیں تمہارا بھی فرض ہے کہ خواہ کوئی بات تمہیں بُری لگے یا کچی ، لوگ ہنسی اور ٹھٹھا کریں یا تعریف تم وہی کچھ کرو جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا۔میں کہتا ہوں داڑھی رکھنا تو کوئی چیز ہی نہیں۔تم ہندو قوم کو دیکھو! ہولی میں وہ ایک دوسرے پر رنگ پھینکتے ہیں اور ہر سال ایسا کرتے ہیں۔بھلا اس میں کونسی معقولیت پائی جاتی ہے؟ مگر بڑے بھی اور چھوٹے بھی سب کے سب اس میں حصہ لیتے ہیں یہاں تک کہ اب کی دفعہ تو وائسرائے کے گھر بھی جا پہنچے۔یہ کتنی لغو حرکت ہے جو ہندو قوم کرتی ہے۔مگر وہ قوم اس کی پروا نہیں کرتی اور اس لیے پروا نہیں کرتی بلکہ کہتی ہے یہ ہمارے مذہب کا حکم ہے۔حالانکہ اُن کا مذہب کیا ہے؟ نہ دینیات کے متعلق اُس میں کوئی تعلیم ہے نہ خواہشات کے متعلق اُس میں کوئی تعلیم ہے، نہ اقتصادیات کے متعلق اُس میں کوئی تعلیم ہے نہ