خطبات محمود (جلد 29) — Page 103
$1948 103 خطبات محمود مگر کیا بیسیوں مضر چیزیں ہم اپنے دوستوں کی خاطر اختیار نہیں کر لیا کرتے اول تو مجھے داڑھی رکھنے میں کوئی ضرر نظر نہیں آتا لیکن سمجھ لو کہ یہ مضر چیز ہے پھر بھی جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کہتے ہیں کہ داڑھی رکھ تو ہماری خوبی آیا اس میں ہے کہ ہم داڑھی نہ رکھیں یا اس میں ہے کہ داڑھی رکھیں؟ آخر ایک شخص کو ہم نے اپنا آقا اور سردار تسلیم کیا ہوا ہے۔جب ہمارا آقا اور سردار کہتا ہے کہ ایسا کرو تو ہمارا فرض ہے کہ ہم اُس کے حکم کے پیچھے چلیں۔خواہ اُس کے حکم کی ہمیں کوئی بھی حکمت نظر نہ آئے۔صحابہ کو دیکھو ان کے دلوں میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کتنا عشق تھا۔داڑھی کے متعلق تو ہم دلیلیں دے سکتے ہیں اور داڑھی رکھنے کی معقولیت بھی ثابت کر سکتے ہیں لیکن صحابہؓ بعض دفعہ اس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سُن کر اُس پر عمل کرنے کے لیے بے تاب ہو جاتے کہ بظاہر اُس کی معقولیت کی کوئی دلیل اُن کے پاس نہیں ہوتی تھی۔ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تقریر فرما رہے تھے کہ آپ نے کناروں پر کھڑے ہوئے لوگوں کی طرف دیکھ کر فرمایا بیٹھ جاؤ۔حضرت عبد اللہ بن مسعود اُس وقت گلی میں سے آ رہے تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ اُن کے کانوں میں بھی پڑگئے اور وہ وہیں گلی میں بیٹھ گئے اور بچوں کی طرح گھسٹ گھسٹ کر اُنہوں نے مسجد کی طرف بڑھنا شروع کیا۔ایک دوست اُن کے پاس سے گزرے تو انہیں کہنے لگے عبد اللہ بن مسعود ! تم اتنے معقول آدمی ہو کر یہ کیا کر رہے ہو؟ انہوں نے کہا ابھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز میرے کان میں آئی تھی کہ بیٹھ جاؤ۔اس پر میں بیٹھ گیا۔انہوں نے کہا رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خطاب آپ سے تو نہیں تھا۔انہوں نے تو یہ بات اُن لوگوں سے کہی تھی جو مسجد میں آپ کے سامنے کھڑے تھے۔عبداللہ بن مسعود نے کہا تم ٹھیک کہتے ہو۔بے شک آپ کا یہی مطلب ہو گا لیکن مجھے یہ خیال آیا کہ اگر میں مسجد پہنچنے سے پہلے پہلے مر گیا تو ایک بات رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بغیر عمل کے رہ جائے گی۔اس لیے میں گلی میں ہی بیٹھ گیا تا کہ آپ کے حکم پر عمل کرنے کا ثواب حاصل کر سکوں۔4 یہ ایمان ہے جو صحابہ کے اندر پایا جاتا تھا اور یہی ایمان ہے جو انسان کی نجات کا باعث بنتا ہے۔ہمیشہ انسان کو یہ عادت اختیار کرنی چاہیے کہ یا تو وہ کسی بات کو مانے یا نہ مانے دوغلا پن سے کبھی جرات پیدا نہیں ہو سکتی۔جرات ہمیشہ یکجہتی سے پیدا ہوتی ہے یا تو ہمارے لیے ابھی یہ فیصلہ کر نا باقی ہے