خطبات محمود (جلد 29) — Page 436
$1948 436 خطبات محمود ہے جس میں دوسری دعا بھی ہوسکتی ہے۔پھر فرائض کے علاوہ منتیں ہیں جو ہر ایک کو پڑھنی چاہیں۔ان میں دعا کی جاسکتی ہے لیکن یہ ضروری ہے کہ انسان کے اندر انکسار اور یقین پایا جائے۔جب وہ ان کو پورا کرے گا اور اُسے دعا کا چسکا پڑ جائے گا تو پھر قدرتی طور پر اسے نوافل پڑھنے کا شوق بھی پیدا ہو جائے گا۔پھر رات کو اٹھ کر خدا تعالیٰ اُسے تہجد پڑھنے کی توفیق بھی دے دے گا۔پھر بعض وقت ایسے ہوتے ہیں جو خالی ہوتے ہیں اُن میں بھی دعائیں کی جاسکتی ہیں۔جب انسان سونے لگتا ہے تو کچھ وقت ایسا ہوتا ہے جو خالی ہوتا ہے۔آخر لیٹتے ہی تو نیند نہیں آجاتی۔بے شک ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جنہیں لیٹتے ہی نیند آجاتی ہے مگر عام طور پر پندرہ بیس منٹ ایسے ہوتے ہیں جو خالی ہوتے ہیں اور بعض تو آدھا آدھا گھنٹہ، گھنٹہ گھنٹہ لیٹے رہتے ہیں اور کروٹیں بدلتے رہتے ہیں لیکن انہیں نیند نہیں آتی۔بہر حال اُس وقت دس پندرہ منٹ کا موقع مل جاتا ہے۔اُسی کو اگر کوئی دعا کے لیے وقف کر دے تو اس کا یہ فائدہ ہوگا کہ ساری رات اُس کے دل سے دعائیں نکلتی رہیں گے۔اگر کسی کو جلدی نیند آ جاتی ہے تو ضروری نہیں کہ ہمیشہ ہی اُسے جلد نیند آجاتی ہو۔بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جنہیں لیٹتے ہی نیند آجاتی ہے اور وہ بھی کبھی کبھی۔مجھے یاد ہے کہ میں ایک دفعہ شملہ گیا وہاں مجھے لیکچر دینے کے لیے کہا گیا اور میں نے مان لیا۔یہ حضرت خلیفہ اول کے زمانہ کی بات ہے۔وہاں سے میں نے انصار اللہ کے نوٹس شائع کرنے کے لیے ایک دستی پر لیس خریدا تھا۔میرے پاس لوگ آئے اور انہوں نے کہا کہ سارے پر لیس والے اشتہار شائع کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔اس لیے لیکچر چھوڑنا پڑے گا۔پہلے تو میں نے لوگوں کے اصرار پر لیکچر دینا منظور کیا تھا مگر جب انہوں نے آکر یہ کہا کہ پریس والے انکار کرتے ہیں تو میں نے کہا تب تو ضرور لیکچر دینا چاہیے۔اس پریس پر ہی پہلا تجربہ کریں گے۔چنانچہ میں نے ہی اُس وقت اشتہار لکھا اور میں نے ہی پنسل سٹنسل PENCIL STENCIQ) کے ساتھ لکھا۔حافظ روشن علی صاحب بھی ساتھ بیٹھ گئے اور اشتہار چھاپتے گئے۔ہم دونوں دو تین بجے رات فارغ ہوئے اور رات ہی رات وہ اشتہار چھاپ دیا۔جب ہم اشتہار چھاپ چکے تو حافظ روشن علی صاحب کہنے لگے میں تو اب سوتا ہوں۔انہوں نے زمین پر سر رکھا اور پانچ سیکنڈ کے اندر مجھے اُن کے خراٹوں کی آواز آنے لگی۔انہیں مجھ سے مذاق کی عادت تھی۔میں نے سمجھا شاید مذاق کر رہے ہیں۔اشتہار میں شاید کوئی بات رہ