خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 425 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 425

$1948 425 خطبات محمود ہوتا ہے اُس کا اندازہ جماعت کر بھی نہیں سکتی۔در حقیقت ان کاموں پر تین لاکھ سالانہ کا خرچ آجاتا ہے۔یعنی پچیس ہزار روپے ماہوار خرچ ہے۔اگر ہم اس بوجھ کو نہیں اٹھائیں گے تو جہاں تک معنوی بات ہے خدا تعالیٰ کے خزانے میں کمی نہیں۔لیکن جہاں تک مادی بات ہے میں سمجھتا ہوں جماعت کے لیے دنیا میں منہ دکھانے کے لیے کوئی جگہ نہیں رہ جائے گی۔جہاں تم اپنی بیماری پر خرچ کرتے ہو وہاں پر یہ بھی سمجھ لو کہ یہ ایک بیماری ہے، ایک ابتلا ہے، مرکز ہمارے ہاتھ سے نکل گیا اور اب اُس کی حفاظت کے لیے وہاں کچھ مخلص بیٹھے ہوئے ہیں۔اگر تم بیمار ہوتے ہو تو اپنی بیماری پر خرچ کرتے ہو۔اسی طرح سمجھ لو کہ احمدیت کے جسم میں بھی بیماری پیدا ہوگئی ہے اور اسے علاج کی ضرورت ہے۔اگر بیماری کا ہی خرچ نکالا جائے تو ایک بڑی رقم اکٹھی ہو سکتی ہے۔ہمارا تمام حساب بجٹ کو ملا کر اٹھارہ بیس لاکھ کا ہوتا ہے۔اتنا چندہ دینے والی جماعت کے لیے دو تین لاکھ سالانہ کا اور بوجھ اُٹھا لینا کوئی بڑی بات نہیں ہے۔اگر یہ احساس پیدا ہو جائے تو ہر سال اتنی رقم مقرر کی جاسکتی ہے۔مگر یہاں تو پہلے سال کے رے بھی جن پر دو سال گزر گئے ہیں ادا نہیں ہوئے۔تیرہ لاکھ کا وعدہ تھا اگر یہ رقم پہلے جمع ہو جاتی تو اس میں اور بھی بہت سے کام کیے جاسکتے تھے۔اور اب اگر دوست اپنے پچھلے وعدے پورے کر دیں اور بقیہ آٹھ لاکھ کی رقم پوری ہو جائے تو دو سال اور اس چندہ کے لیے کسی نئی تحریک کی ضرورت نہیں رہتی۔اگر مشرقی پنجاب کے لوگوں کو جو صدمہ پہنچا ہے اُس کی وجہ سے بقیہ وعدوں کا ایک حصہ نا قابل وصول بھی قرار دیا جائے تو پھر بھی ڈیڑھ سال کا گزارہ پہلے وعدوں کی رقم پر چلایا جا سکتا ہے اور 1950 ء تک نئی تحریک کی ضرورت نہیں رہتی۔اس کے بعد ضرورت قائم بھی رہے تو پھر نئی تحریک کے ذریعہ چندہ اکٹھا کیا جا سکتا ہے اور نئی تحریک کی صورت میں اگر حفاظت مرکز کے لیے جو معمولی بات نہیں ایک ماہ کی آمد کا پچیس فیصدی دے دیا جائے۔جس کے معنے دو فیصدی ماہوار کے ہیں تب بھی تین لاکھ آسانی کے ساتھ جمع ہوسکتا ہے۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے آپ لوگ اپنے ذہنوں میں سوچ کر دیکھ لیں کہ یہ کتنی اہم چیز ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ اس کی زیادہ تشریح کی ضرورت نہیں۔بعض چیزیں ایسی ہوتی ہیں کہ اگر ان کی زیادہ تشریح کی جائے تو وہ گھناؤنی بن جاتی ہیں۔یہ چیز بھی ان میں سے ہی ہے۔اگر اس کی تشریح کی جائے تو یہ بھی گھناؤنی بن جائے۔اس کام میں اگر ہم غفلت سے کام لیں اور قادیان میں جولوگ رہتے ہیں