خطبات محمود (جلد 29) — Page 410
خطبات محمود 410 $1948 ہمارے ایک مخلص دوست ہیں جو پھیر و پیچی کے رہنے والے ہیں۔میں ایک دفعہ پھیر و پیچی گیا۔میری بھی اس کے قریب زمین تھی اور میں تبدیلی آب و ہوا کے لیے وہاں جاتا تھا۔وہ میرے پاس آئے اور کہا حضور ! دعا فرمائیں کہ خدا تعالیٰ میری تکلیف کم کر دے۔انہیں لوگ مولوی صاحب کہا کرتے تھے اگر چہ وہ مولوی نہیں تھے وہ بڑے دیندار تھے اور ابھی تک زندہ ہیں۔میں نے کہا کیوں مولوی صاحب کیا زمین کم ہے یا کوئی اور بات ہے؟ وہ بڑی سادگی سے کہنے لگے چار کنال زمین میرے باپ کی تھی اور دو کنال اور رگر ولے لی ہے زمین کافی ہے کچھ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہی گرفت ہے۔دیکھو! وہ چھ کنال کو ہی کافی زمین سمجھا کرتے تھے۔اب ایسے لوگوں کو دس ایکڑ مل گئے ہیں۔بعض لوگ ایسے ہیں جن کی وہاں کنووں والی زمین تھی اب انہیں نہری زمین مل گئی ہے۔بس اُن کی حالت اچھی ہوگئی ہے۔اب انہیں پیچھے نہیں رہنا چاہیے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بعض ایسے بھی ہیں جن کی اُدھر آسودہ حالت تھی اب وہ کٹ گئے ہیں۔وہاں وہ دس ہیں لاکھ چھوڑ کر آئے ہیں۔یہاں اُن کی پیسے کی آمد بھی نہیں۔انہیں جانے دو۔ایسے لوگ بہت کم ہیں۔اکثر حصہ غرباء کا ہے جو ہزاروں سے لکھ پتی بن گئے ہیں۔جن کی وہاں دس کنال زمین تھی اب انہیں دس ایکڑ زمین مل گئی ہے۔پہلے اُن کی بارانی زمین تھی اب انہیں نہری زمین مل گئی ہے یا پہلے اُن کی چاہی زمین تھی اب انہیں نہری زمین مل گئی ہے۔اُن کو بھی اپنے حصہ سے جو اس بوجھ میں اُن کا ہے پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے۔پھر میں مغربی پاکستان والوں کو لیتا ہوں۔خدا تعالیٰ نے اُن پر بڑا فضل کیا ہے کہ اُس نے انہیں اس تباہی سے بچایا ہے۔انہوں نے اُس طرف اپنی جائیداد کا کوئی حصہ نہیں چھوڑا لیکن اس طرف انہوں نے دوسروں کے ساتھ برابر کا حصہ لیا ہے۔سینکڑوں ایسے آدمی ملتے ہیں جن کی پہلے کوئی جائیداد نہیں تھی۔اب وہ کارخانوں کے مالک بن گئے ہیں۔بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو ہندوستان سے باہر گئے ہوئے تھے۔فسادات میں وہ یہاں آگئے تالوٹ مار میں اُن کو بھی حصہ مل جائے۔بہت شہروں میں ایسا ہوا ہے۔بہر حال اکثر کی اقتصادی حالت پہلے سے بہت اچھی ہے۔جن کی حالت پہلے سے خراب ہے وہ چند ہی ہیں۔اُن کی وجہ سے کوئی اثر نہیں پڑتا۔ایسے لوگ سو میں سے دو یا چار ہوں گے۔پہلے تو میں ان لوگوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ نئے سال کے لیے وعدے لکھوائیں اور پھر جو ستر اسی ہزار کے وعدے گزشتہ سال کے پورا ہونے سے رہ گئے ہیں انہیں بھی جلد پورا کریں۔اسی طرح ساٹھ ستر ہزار