خطبات محمود (جلد 29) — Page 381
$1948 381 خطبات محمود اور دال پکنی شروع ہوگئی اور روز حساب ہونے لگا کہ اب ایک سو ایک ہو گئے ہیں ، اب ایک سو دو ہو گئے ہیں، اب ایک سو تین ہو گئے ہیں۔سات آٹھ دن کے بعد وہ بنیا آیا۔اسے یقین تھا کہ وہ شخص دیانت دار ہے۔وہ اس کے پاس گیا اور کہا مجھے کوئی شخص بلانے آیا تھا۔میں اس کے ساتھ چلا گیا اور جلدی میں نانوے روپے کی تھیلی آپ کی ڈیوڑھی میں چھوڑ گیا۔اُس نے کہا ہاں ننانوے کی تھیلی وہاں پڑی ہوئی تھی وہ میرے پاس ہے۔اس نے تھیلی لا کر پینے کو دے دی۔تھیلی واپس دینے کے بعد اُس نے اپنی بیوی سے کہا جتنا تم پہلے کم خرچ کرتی رہی ہو اب اُس سے دگنا خرچ کرو تا جو روپیہ جمع ہوا ہے اُس سے مزے اڑائیں کیونکہ اب زیادہ روپیہ جمع ہونے کا امکان نہیں۔چنانچہ پھر وہی گوشت پکنا شروع ہو گیا اور بھگار لگنے لگ گئے۔غرض جمع کرنے کی عادت حرص کو بڑھا دیتی ہے۔جب مال آجاتا ہے تو انسان خیال کرتا ہے کہ اگر اس قدر رقم جمع ہو جائے تو بچوں کی شادیاں اچھی طرح ہو سکیں گی ، بچوں کے لیے جائیداد بن جائے گی۔غرض جمع کرنے کی عادت سے حرص بڑھتی چلی جاتی ہے۔اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ غریب جو کم آمدن میں قربانی کرتا ہے وہ امرا ءلاکھوں کے ہوتے ہوئے نہیں کر سکتے۔بسا اوقات میں شرمندہ ہو جا تا ہوں جب میں یہ دیکھتا ہوں کہ کوئی کہتا ہے میں بہت زیادہ چندے دیتا ہوں حالانکہ میں دیکھتا ہوں کہ اُس سے دسویں حصہ آمدن والے نے اُس سے زیادہ چندہ دیا ہوتا ہے۔اس وقت ہی میں نے دیکھا ہے کہ قادیان سے آنے کے بعد بعض غرباء نے اتنی اتنی رقم بطور چندہ کے دی ہے کہ اگر اس کا اندازہ لگایا جائے تو اس کا سینکڑواں حصہ بھی امراء نے نہیں دیا۔جو کچھ بھی انہوں نے اپنی ضرورتوں کے لیے پس انداز کیا ہوا تھا وہ میرے سامنے لا کر رکھ دیا۔پتہ نہیں کہ وہ روپیہ انہوں نے کتنے سالوں میں جمع کیا تھا۔کسی امیر نے ایسا نہیں کیا۔کسی ڈیڑھ سو سے اوپر کی آمدن والے نے ایسا نہیں کیا بلکہ سو سے کم آمدن والوں نے ایسا کیا ہے، پچھتر سے کم آمدن والوں نے ایسا کیا ہے بلکہ پچاس سے کم آمدن والوں نے ایسا کیا ہے۔میں جب قادیان سے آیا ہوں تو میں نے خیال کیا کہ جو لوگ وہاں بیٹھے ہیں ان کے لیے صدقہ دیتے رہنا چاہیے۔چنانچہ جب تک آخری قافلہ نہیں آیا میں چھپیں روپیہ روزانہ نکال کر صدقہ دیتا تھا اور یہ ساڑھے سات سو روپیہ ماہوار بنتا ہے۔جب قافلے آگئے تو اب سو روپیہ ماہوار صدقہ دیتا ہوں