خطبات محمود (جلد 29) — Page 374
$1948 374 خطبات محمود تمہاری ساری جماعت کے چندوں کا پچاس فیصدی ہوتا ہے۔اب بھی جب کہ ہم قادیان سے گٹ کر آئے ہیں میرا چندہ جماعت لاہور کے چندہ کا پچیس فیصدی ہے۔وہ خاطر تو میں آپ ہی اس چندہ کو کم کر کے کرسکتا ہوں۔تمہارا یہ کہنا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ تم نے حقیقت پر غور کرنا ضروری نہیں سمجھا۔ہاں اگر کسی سے رشتہ محبت ہو تو انسان خود بھی خاطر کرتا ہے اور وہ شخص بھی بعض دفعہ یہ امید کرتا ہے کہ اُس کی خاطر ہو۔میری بیویاں ہیں اگر چہ وہ خرج مجھ سے ہی لیتی ہیں مگر پھر بھی بعض دفعہ عید کے موقع پر رومال، جرابیں یا عطر کی شیشی خرید کر مجھے بطور تحفہ دے دیتی ہیں۔اس لیے نہیں کہ میں محتاج ہوتا ہوں بلکہ اس لیے کہ انہیں مجھ سے محبت ہوتی ہے۔وہ اپنی محبت کے اظہار کا اسے ذریعہ بنالیتی ہیں۔پھر کھانا ہے بعض بیویاں اپنے خاوند کے لیے خاص طور پر کھانا تیار کرتی ہیں اور بعض نہیں کرتیں۔روپیہ تو خاوند کا ہی ہوتا ہے مگر یہ محبت کی علامتیں ہیں۔جو محبت کرنے والا ہوتا ہے اس کا تو اس کے بغیر چارہ نہیں ہوتا۔چاہے دوسرے کو ضرورت ہو یا نہ ہو بلکہ بعض دفعہ بلا ضرورت بھی ایسا کر دیا جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں میں ایک دفعہ شملہ گیا۔آپ نے مجھے خرچ دیا اور ی آپ کا بہت سا روپیہ خرچ ہوا۔حضرت نانا جان بھی ساتھ تھے۔ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب نے کی آپ سے کہا تھا کہ اسے سل کا ڈر ہے شملے بھجوادیا جائے۔میں وہاں گیا وہاں کی جماعت نے مجھے چھ سات پونڈ تحفے کے طور پر دیئے۔میں نے اُس کے خرچ کے متعلق اپنے ذہن میں سوچا اور تجویز کی کہ میں یہ رقم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں بطور تحفہ پیش کروں۔چنانچہ میں نے اُس میں سے کچھ والدہ کے لیے تحفہ خرید لیا اور چار پونڈ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں پیش کیے۔اب دیکھو سارا خرچ آپ کا ہوا تھا ، جاتے بھی آپ نے ہی ٹرین کا خرچ دیا تھا اور آتے بھی آپ نے ہی دیا تھا اور پھر وہاں کا خرچ بھی آپ نے ہی دیا تھا۔یہ تو میں سمجھتا تھا کہ آپ محتاج نہیں ہیں مگر میری محبت نے تقاضا کیا کہ میں ایسا کروں۔یہ محبت کے تقاضے ہوتے ہیں۔بعض دوست اس قسم کے بھی ہیں کہ جب انہیں ہفتہ کا راشن ملتا ہو وہ اس میں سے کچھ بچا بچا کر میرے پاس لے آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ ہم آپ کو دیتے ہیں۔غرض ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو محبت کی وجہ سے خود قربانی کرتے ہیں۔یہ نہیں کہ دوسرے کو اُس کی ضرورت ہوتی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق احادیث میں آتا ہے کہ آپ کی