خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 373 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 373

$1948 373 خطبات محمود ہے کہ جب تم سڑکوں پر پھرتے ہو تو غض بصر کرو۔گویا قرآن کریم اس حقیقت کو تسلیم کرتا ہے کہ جب عورتیں سڑکوں پر پھرتی ہیں تو بعض دفعہ وہ اپنے چہروں کو ننگا کر دیتی ہیں۔بخاری میں ہے حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ جب ہم حج کے لیے جاتی تھیں تو ہم نقاب اٹھا دیتی تھیں۔جب کوئی مرد نظر آتا تو نقاب ڈال لیتیں۔4 اس سے بھی یہ بات نکل آئی کہ عورتیں جب باہر نکلتی ہیں اور وہ دیکھتی ہیں کہ اردگرد کوئی مرد نہیں تو وہ نقاب اٹھا دیتی ہیں۔پردہ کوئی طبعی چیز تو نہیں غیر طبعی چیز ہے۔اس کا نظر پر برا اثر پڑتا ہے، سانس رکتا ہے اس لیے جب عورتیں دیکھتی ہیں کہ ارد گر دکوئی مرد نہیں یا وہ بجھتی ہیں کہ ان کے اردگر د شریف آدمی ہیں غنڈے نہیں ہیں تو وہ پردہ اٹھا دیتی ہیں۔پھر اگر کوئی مرد نظر آ جائے یا تو وہ سمجھتی ہوں کہ اردگرد جو آدمی ہیں وہ او باش ہیں اپنی نظریں نیچی نہیں کریں گے تو وہ اپنے چہروں پر نقاب ڈال لیں گی۔غرض ایسے مواقع ہو سکتے ہیں جہاں عورتیں جائز طور پر نقاب اٹھا سکتی ہیں اور گومیں تسلیم کرتا ہوں کہ ایسا ہو سکتا ہے لیکن اگر ہجوم زیادہ ہو اور آدمی ایک دوسرے پر پڑ رہے ہوں تو پھر کوئی عورت پردہ اٹھا دے اور بے احتیاطی سے کام لے تو یہ گناہ کا فعل ہوگا۔لیکن ایسی جگہ پر جہاں مرد نہیں ہیں یا ہیں تو وہ کسی گوشہ میں ہیں اُسے نظر نہیں آرہے وہ اس کے سامنے نہیں ہیں تو وہ یہ سمجھتے ہوئے کہ میں یونہی تکلیف کیوں اٹھاؤں نقاب اٹھا دیتی ہے۔پھر اگر کوئی سڑک پر مر د نظر آ جائے تو نقاب چہرے پر ڈال لیتی ہے۔یا جب عورتیں موٹروں میں جاتی ہیں تو موٹروں سے یو نہی تو نظر نہیں آتیں جب تک کہ کوئی انہیں پالا رادہ نہ جھانکے۔اور جب کوئی بالا رادہ جھانکے تو پھر دیکھنے والا او باش ہو گا نہ کہ وہ ا عورتیں۔وہ سمجھتی ہیں کہ اردگرد جو آدمی ہیں وہ شریف ہیں اور شریف آدمی دوسری عورتوں کی طرف جھانکا نہیں کرتے اس لیے وہ نقاب اٹھا دیتی ہیں۔اگر وہ نقاب اٹھا دیں تو اُن پر کوئی الزام نہیں آئے گا دیکھنے والے پر الزام آئے گا۔لیکن پھر بھی اگر میری بیویاں موٹر میں بیٹھے ہوئے نقاب اٹھا دیتی ہیں تو کیا تمہارے لیے نمازیں نہ پڑھنا جائز ہو جائے گا ؟ پھر وہ لکھتا ہے کہ آپ کو غصہ یہ ہے کہ آپ جب قادیان سے لاہور آئے تو آپ کی خاطر نہیں ہوئی۔میں اُس شخص سے یہ کہتا ہوں کہ بعض سال ایسے بھی آئے ہیں کہ جب میں نے تمہاری ساری جماعت کے چندہ سے بڑھ کر چندہ دیا ہے (بشرطیکہ یہ شخص لاہور کی جماعت کا ہو۔مجھے غالب خیال ہے کہ یہ کوئی باہر کا منافق ہے یا کم سے کم جماعت لاہور سے تعلق نہیں رکھتا ) اور ویسے بھی میرا چندہ