خطبات محمود (جلد 29) — Page 337
$1948 337 خطبات محمود دو چمچے میٹھے کے ملا دیتا ہے اور سمجھ لیتا ہے کہ ان دو چمچوں سے زردہ تیار ہو جائے گا۔یا پچاس ساٹھ دیکھیں شربت کی تیار کرتا ہے تو ان میں بھی ایک ایک دو دو چمچے کھانڈ کے ملا دیتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اس طرح شربت تیار ہو جائے گا۔حالانکہ ایک دیگ میں ایک چمچہ چائے میٹھا ملانے سے تو اس کا میٹھا ہونا تو الگ رہا جو لوگ پھیکی چائے پیتے ہیں وہ بھی ایک پیالی چائے میں اس سے زیادہ میٹھا ملاتے ہیں۔اور جو اچھا میٹھا پیتے ہیں وہ تو دو دو تین تین بچے میٹھا ڈالتے ہیں۔بالکل اسی طرح ہم بھی خیال کر لیتے ہیں کہ فلاں شہر میں ہمارا ایک مبلغ جو کام کر رہا ہے وہ اس شہر کے لیے کافی ہے۔ہم کبھی نہیں سوچتے کہ وہ کتنے آدمیوں کو تبلیغ کر سکتا ہے، ہم کبھی نہیں سوچتے کہ ہمارے مبلغ کا دن چوبیس گھنٹے کا ہے یا چار ہزار گھنٹے کا ہے۔ہم بھول جاتے ہیں اس بات کو کہ ہمارے مبلغ کے لیے بھی خدا تعالیٰ کا سورج اُسی طرح چڑھتا اور غروب ہوتا ہے جس طرح دوسرے لوگوں کے لیے چڑھتا اور غروب ہوتا ہے اور اس حساب نہ لگانے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بسا اوقات تبلیغ کے متعلق ہماری حالت اُسی قسم کی ہو جاتی ہے جیسے میں ایک دفعہ سندھ گیا تو وہاں کے ایک رئیس جو پرانے شاہی خاندان کی نسل میں سے ہیں اور جن کی زمین دس بارہ ہزار ایکڑ ہے مجھ سے ملنے کے لیے آئے۔اس زمین میں سے پانچ ہزا را یکٹر میں نے اور تحریک جدید نے مقاطعہ پر لی تھی اور جیسے امراء کا دستور ہے کہ وہ روپیہ عیاشیوں میں اُڑا دیتے ہیں اور با وجود بہت بڑی جائیدادوں کے مقروض رہتے ہیں یہی حالت ان کی تھی۔اُن کی کچھ نہیں تو پچاس ہزار روپیہ آمدن تھی مگر پھر بھی وہ مقروض رہتے تھے۔میں ایک دفعہ سندھ گیا اور انہوں نے سنا کہ میں آیا ہوا ہوں تو وہ میرے پاس آئے۔میری جگہ سے وہ پچاس ساٹھ میل دور ہتے تھے۔موٹر میں وہ میرے پاس پہنچے اور انہوں نے درخواست کی کہ اگلے سال کے مقاطعہ میں سے کچھ رقم بطور پیشگی مجھے دے دی جائے۔جب وہ میرے پاس آئے تو میں نے سمجھا کہ خدا نے مجھے تبلیغ کا ایک موقع عطا کر دیا ہے آؤ اس سے فائدہ اٹھا ئیں اور انہیں کچھ نصیحت کریں۔چنانچہ میں نے اُن سے کہا میر صاحب ! ( وہ میر خاندان میں سے تھے اللہ تعالیٰ نے آپ کو روپیہ بھی دیا ہے، جائیداد بھی دی ہے ، عزت اور شہرت بھی دی ہے ، آپ کو چاہیے کہ آپ اپنی قوم کے سدھار اور اس کی اصلاح کے لیے اپنی اولاد کو تعلیم دلائیں اور جو کچھ روپیہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو دیا ہے وہ آپ ان کی تعلیم پر خرچ کریں۔جب وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرلیں گے تو آپ کے رسوخ کی وجہ سے قوم کے اور ہزاروں لڑکوں کے اندر بھی تعلیم حاصل کرنے کا