خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 336 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 336

$1948 336 خطبات محمود اگر ہم پانچ سو خاندانوں پر ایک مبلغ رکھیں تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ وہ سال بھر میں اپنے علاقہ کے لوگوں کو صرف ایک دفعہ تبلیغ کر سکے گا۔اگر عورتوں اور بچوں کو نکال دو تب بھی اس کے معنے یہ ہوں گے کہ وہ سال میں ہر شخص کو چھ دفعہ آدھ آدھ گھنٹہ تبلیغ کر سکے گا اور اتنا وقت تو ماننے والے کی تربیت کے لیے بھی کافی نہیں ہوتا کجا یہ کہ غیر کو منوانے کے لیے اسے کافی سمجھا جائے۔لاہور کی سترہ لاکھ آبادی ہے۔اس آبادی میں اگر پانچ کس کی ایک فیملی مجھی جائے تو تین لاکھ چالیس ہزار خاندان یہاں بستے ہیں۔اگر پانچ سو افراد پر ایک مبلغ رکھا جائے تو اس کے معنے یہ ہیں کہ صرف لا ہور شہر میں چونتیس سو مبلغ چاہیے۔اگر چونتیس سو مبلغ یہاں رکھا جائے تو سال بھر میں فی جوان مرد کو وہ صرف تین گھنے تبلیغ کر سکے گا اور فی آدمی سال میں وہ صرف چالیس منٹ وقت دے سکے گا۔مگر آپ لوگ تو اسی بات پر خوش ہو جاتے ہیں کہ ہم نے سارے لاہور شہر میں ایک مبلغ رکھا ہوا ہے۔اگر دوسری مسجد بنے گی تو قدرتی طور پر آپ لوگوں کو خیال پیدا ہو گا کہ ہمارا ایک مبلغ اس مسجد میں رہے اور ایک اُس مسجد میں۔اور اگر کسی قت تین مسجدیں بن جائیں گی تو آپ لوگوں کو خیال پیدا ہوگا کہ ہم ایک تیسرا مبلغ بھی رکھیں۔غرض مسجدوں کے بڑھنے سے لازمی طور پر مبلغین کے بڑھانے کا احساس پیدا ہوگا اور مبلغوں کے بڑھنے سے تبلیغ میں زیادتی ہوگی۔پس میرے نزدیک دوسری مسجد کا بنا اس مسجد کی ویرانی کا موجب نہیں بلکہ اس کی آبادی کا موجب ہوگا۔حقیقتا مسجد کی آبادی اُسی وقت ہوتی ہے جب پانچوں وقت لوگ اُس میں با قاعدگی سے نمازیں پڑھتے ہوں۔جب یہاں ساتویں دن جمعہ کے دن بھی کوئی شخص نظر نہیں آئے گا تو لازمی طور پر لوگوں کو خیال پیدا ہو گا کہ ہم نے ایک مسجد بنائی تھی جو ویران ہونے لگی ہے۔آؤ ہم تبلیغ کر کے اپنی جماعت کو بڑھائیں اور اس مسجد کی آبادی کی کوشش کریں۔پھر اگر دو مبلغ ہو جائیں گے تو اس مسجد کا مبلغ شہر کی طرف سے سبکدوش سمجھا جائے گا اور شہر کا انچارج جامع مسجد کا امام ہو گا۔اس طرح اس جگہ کا مبلغ محلہ کی تبلیغ کے لیے وقف ہو جائے گا۔حقیقت یہ ہے کہ تبلیغ کے متعلق ہم کبھی بھی حسابی طور پر غور نہیں کرتے۔ہم سمجھ لیتے ہیں کہ اگر کسی گاؤں میں ایک مبلغ ہے تو وہ کافی ہے یا کسی شہر میں ایک مبلغ ہے تو وہ کافی ہے۔ہماری مثال بالکل اس شخص کی سی ہوتی ہے جو چائے کی ایک پیالی کے متعلق میٹھے کا اندازہ لگاتا ہے اور سمجھتا ہے کہ دو تین چمچے کھانڈ کے اُس کے لیے کافی ہوں گے۔اور پھر زردہ کی ایک دیگ پکاتا ہے تو اس میں بھی