خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 327 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 327

$1948 327 خطبات محمود طریق یہ تھا کہ اگر ایندھن آجاتا اور وہ اندر ڈالنا ہوتا تو گھر کی خادمہ آواز دے دیتی کہ ایندھن آیا ہے کوئی چی آدمی ہے تو وہ آجائے اور ایندھن اندر ڈال دے۔پانچ سات آدمی جو حاضر ہوتے وہ آ جاتے اور ایندھن اندر ڈال دیتے۔دو تین دفعہ ایسا ہوا کہ کام کے لیے باہر خادمہ نے آواز دی مگر کوئی آدمی نہ آیا۔ایک دفعہ لنگر خانہ کے لیے اُپلوں کا ایک گڈا آیا، بادل بھی آیا ہوا تھا۔خادمہ نے آواز دی تا کوئی آدمی مل جائے تو وہ اُپلوں کو اندر رکھوا دے مگر اس کی آواز کی طرف کسی نے توجہ نہ کی۔میں نے دیکھا کہ حضرت خلیفہ اول اُس وقت مسجد اقصٰی سے قرآن کریم کا درس دے کر واپس تشریف لا رہے تھے۔آپ اُس وقت خلیفہ نہیں تھے مگر علم دینیات، تقوی اور طب کی وجہ سے آپ کو جماعت میں ایک خاص پوزیشن حاصل تھی اور لوگوں پر آپ کا بہت اثر تھا۔آپ درس سے فارغ ہو کر گھر جا رہے تھے کہ خادمہ نے آواز دی اور کہا کہ کوئی آدمی ہے تو وہ آجائے بارش ہونے والی ہے، ذرا اُپلے اٹھا کر اندر ڈال دے۔لیکن کسی نے توجہ نہ کی۔آپ نے جب دیکھا کہ خادمہ کی آواز کی طرف کسی نے توجہ نہیں کی تو آپ نے فرمایا اچھا! آج ہم ہی آدمی بن جاتے ہیں۔یہ کہہ کر آپ نے اُپلے اٹھائے اور اندر ڈالنے شروع کر دیئے۔ظاہر ہے کہ جب شاگرد استاد کو پلے ڈالتے دیکھے گا تو وہ بھی اُس کے ساتھ وہی کام شروع کر دے گا چنانچہ اور لوگ بھی آپ کے ساتھ کام کرنے لگ گئے اور اُپلے اندر ڈال دیئے۔مجھے یاد ہے میں نے دو تین مختلف مواقع پر آپ کو ایسا کرتے دیکھا اور جب بھی آپ اُپلے اٹھانے لگتے اور لوگ بھی آپ کے ساتھ مل جاتے۔اسی طرح جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے موقع پر کفار سے صلح کر لی تو صحابہ بہت رنجیدہ ہوئے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو حکم دیا کہ یہیں قربانیاں کر دو مگر کسی نے قربانی نہ کی۔آپ گھر تشریف لے گئے اور اپنی ایک بیوی سے جو آپ کے ساتھ تھی فرمایا میں نے اپنی قوم کا جو نمونہ آج دیکھا ہے وہ اس سے پہلے نہیں دیکھا۔پہلے جب بھی میں انہیں کسی قربانی کے لیے کہتا تھا تو وہ فوراً اٹھ کھڑے ہوتے تھے مگر آج جب میں نے قربانی کے لیے کہا تو وہ اٹھے نہیں۔آپ کی اہلیہ مبارکہ نے جو اُس وقت ساتھ تھیں فرمایا یا رسول اللہ! یہ تو آپ کے عاشق ہیں۔صدمہ کی وجہ سے ان کی عقلیں ماری گئی ہیں۔آپ اس کی پروا نہ کریں اور سیدھے جا کر اپنی قربانی ذبح کر دیں اور کسی سے بات نہ کریں۔آپ نے فرمایا یہ تجویز ٹھیک ہے۔آپ نے نیزہ پکڑا اور جہاں آپ کا اونٹ کھڑا تھا شریف لے گئے اور اپنی قربانی کو ذبح کرنا شروع کر دیا۔آپ نے ابھی نیزہ مارا ہی تھا کہ لوگ