خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 298 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 298

$1948 خطبات محمود 298 ہے اور دنیا کی محبت بہت بڑھتی چلی جارہی ہے۔جو انسان یہ سمجھتا ہو کہ زید سے میں نے سفارش کرالی تو کام بن جائے گا اُس کے دل میں خدا تعالیٰ کی طرف توجہ ہی کس طرح پیدا ہو سکتی ہے۔جہاں تک عمل کا سوال ہے اس کے نتیجہ میں تو انسان خدا تعالیٰ کی طرف جھکنے پر مجبور ہوتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ عمل خدا تعالیٰ کے پیدا کردہ راستوں میں سے ایک راستہ ہے جس پر میں چل رہا ہوں۔لیکن سفارشیں ایسی چیز ہیں جن کے نتیجہ میں انسان کا دل خدا تعالیٰ سے ہٹ جاتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ فلاں شخص ہی میرا کام کر سکتا ہے۔اور جب کسی کے دل میں یہ خیال بھی پیدا ہو جائے تو وہ خدا تعالیٰ کی طرف توجہ ہی کیوں کرے گا۔دوسرے جن لوگوں کی طرف سفارش کا خیال ہوتا ہے اُن پر بھی اس کا برا اثر پڑتا ہے اور وہ بھی اس کے نتیجہ میں کئی قسم کی خرابیوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔کتنا ہی ذلیل سے ذلیل انسان ہو وہ روز روز کی گدا گری برداشت نہیں کر سکتا۔سفارشیں آخر کیا چیز ہیں؟ سفارش تو دوسرے سے بھیک مانگنا ہے اور کون انسان ایسا ہے جو اس گداگری کو روزانہ برداشت کرتا چلا جائے؟ اگر دنیاوی طور پر ایک شخص اعزاز رکھتا ہے اور تم سمجھتے ہو کہ تمہارے کام کے لیے اگر وہ سفارش کر دے تو تم کامیاب ہو سکتے ہو تو اس کے معنے یہ ہیں کہ تم اُسے رات اور دن گدا گری پر مجبور کرتے ہو۔تم خیال کرتے ہو کہ صرف میں نے ہی سفارش کے لیے کہا ہے۔اگر میرا کام کر دیا گیا تو کونسی بڑی بات ہے۔حالانکہ جس طرح تم حاجت مند ہوتے ہو۔اسی طرح اور ہزاروں لوگ حاجت مند ہوتے ہیں۔اس وقت ہماری جماعت لاکھوں تک پہنچی ہوئی ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ ہزاروں آدمیوں کے دلوں میں وہی خواہش پیدا ہو رہی ہوتی ہے جو کسی ایک آدمی کے دل میں اپنے کام کے متعلق پیدا ہوتی ہے۔مگر لوگوں کی یہ حالت ہے کہ انہیں ہمیشہ اپنا ہی خیال رہتا ہے۔دوسروں کا خیال اُن کے ذہن میں کبھی آتا ہی نہیں۔مثلاً " الف "اگر با اثر آدمی ہے تو" باء" کہتا ہے کہ وہ میری سفارش کر دے۔مگر "باء" کو کبھی خیال نہیں آتا کہ " ج" کو بھی سفارش کی ضرورت ہے، "د" کو بھی سفارش کی ضرورت ہے، "ہ" کو بھی سفارش کی ضرورت ہے، "و" کو بھی سفارش کی ضرورت ہے، "ز" کو بھی سفارش کی ضرورت ہے، " حا" کو بھی سفارش کی ضرورت ہے، "" کو بھی سفارش کی ضرورت ہے، "یاء" کو بھی سفارش کی ضرورت ہے۔اگر وہ اس کی سفارش کرتا ہے تو باقیوں کی کیوں سفارش نہ کرے۔اور اگر وہ سب کی سفارش کرنے کیلئے کھڑا ہو جاتا ہے تو جو نی قص