خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 264 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 264

$1948 264 خطبات محمود ایسے افراد ہیں کہ اگر وہ پانچ وقت نمازیں پڑھ لیتے ہیں یا چندہ دے دیتے ہیں تو وہ سمجھ لیتے ہیں کہ انہوں نے خدائی سپاہی کا کام پورا کر دیا ہے۔اگر کسی ملک کے ایسے سپاہی ہوں تو وہ ایک ہی سال میں تباہ ہو جائے۔جب بھی کوئی نبی دنیا میں آتا ہے اُس کے ماننے والے روحانی سپاہی ہوتے ہیں۔اُن کا یہ فرض ہوتا ہے کہ وہ اپنی زندگیوں کو اس رنگ میں صرف کریں کہ وہ اپنے مقصد کو پورا کر لیں۔اگر وہ اپنی زندگیوں کو ایسے رنگ میں صرف نہیں کرتے کہ ان کا مقصد پورا ہو تو وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔کامیاب وہی قوم ہوگی جو اپنی زندگیوں کو اس رنگ میں لگا دے کہ وہ جب دفتر جا رہے ہوں تب بھی ان کے دماغ میں یہ ہو کہ ہم نے دین کو غالب کرنا ہے، جب دفتر سے واپس آ رہے ہوں تب بھی ان کے دماغ میں یہ ہو کہ ہم نے دین کو غالب کرنا ہے۔وہ جب تجارت کر رہے ہوں اور تر از واُن کے ہاتھ میں ہو تب بھی ان کے دماغ میں یہ ہو کہ ہم نے دین کو غالب کرنا ہے۔وہ اگر ہل چلارہے ہوں اُن کا ہاتھ ہل پر ہو مگر اُن کا دماغ اس طرف جا رہا ہو کہ ہم نے دین کو غالب کرنا ہے۔جب تک آپ لوگوں میں یہ روح پیدا نہیں ہو جاتی اُس وقت تک کامیابی کی امید رکھنا غلط ہے۔میں یہ تو نہیں کہتا کہ یہ سلسلہ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا قائم کیا ہوا ہے کامیاب نہیں ہوگا۔یہ سلسلہ ضرور کامیاب ہوگا خواہ آپ سب مرتد ہو جائیں۔مگر بے شرمی یہ ہے کہ ہر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ میں اس کامیابی میں حصہ دار ہوں۔قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب مسلمانوں کے افراد مدینہ سے باہر نکلتے تھے تو منافق کہتے تھے کہ یہ اپنی جانوں کو ضائع کرنے کے لیے جارہے ہیں۔مگر جب وہی لشکر فاتح ہو کر واپس آتے تو وہ مدینہ سے باہر نکل آتے اور لشکر کے ساتھ مل جاتے اور کہتے ہم بھی تمہارے ساتھ ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کی ایسی بیہودگی پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتا ہے۔پس یہ سوال نہیں کہ یہ سلسلہ کامیاب ہوگا یا نہیں؟ یہ سلسلہ یقیناً کامیاب ہوگا۔بلکہ سوال یہ ہے کہ کمزور ایمان اور منافق لوگ بھی ان نعمتوں میں اپنے آپ کو شریک سمجھتے ہیں۔وہ نوکریاں کرتے ہیں ، تجارتیں کرتے ہیں، پیشے کرتے ہیں اور دنیا کے دیگر کاروبار کرتے ہیں مگر اسلام کو ان پر حاوی اور غالب نہیں سمجھتے۔پھر وہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ہم اس مقصد عالی میں شریک ہو گئے ہیں جس کے لیے خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھیجا ہے۔میں کوئٹہ کی جماعت کو نصیحت کرتا ہوں اور اس جماعت کے ذریعہ دوسری جماعتوں کو بھی