خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 265 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 265

$1948 265 خطبات محمود نصیحت کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ میں طاقت ہے مگر وہ ہر کام نہیں کیا کرتا۔کیا اُس میں یہ طاقت نہیں کہ وہ کوئٹہ کو اٹھا کر اُلٹ دے۔مگر وہ ایسا نہیں کرتا۔کیا اُس میں یہ طاقت نہیں کہ تمام عیسائی مر جائیں؟ کیا اُس میں یہ طاقت نہیں کہ تمام عیسائی ایک دن اپنے خزانے کھولیں اور وہ سب خزا نے احمدیوں کے گھروں میں پڑے ہوں اور وہ خود قلاش ہو جائیں۔مگر کیا خدا تعالیٰ ایسا کرتا ہے؟ یہ کہہ دینا کہ وہ ایسا کر دے گا حماقت کی بات ہے۔سوال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے قانون کو کس رنگ میں استعمال کرتا ہے۔اُس میں یہ طاقت ہے کہ وہ دس ہیں سال میں تمہیں دس کروڑ کر دے۔یہ اس کے لیے ناممکن نہیں مگر کیا وہ ایسا کرتا ہے؟ وہ ایسا کر سکتا ہے کہ مردوں کو پھر زندہ کر دے، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دوبارہ زندہ کر کے دنیا میں واپس لے آئے، حضرت موسی و عیسی علیہما السلام کو دوبارہ لے آئے۔مگر کیا وہ ایسا کرتا ہے؟ اور اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو محض یہ کہ دینا کہ وہ ایسا کر دے گا درست نہیں۔وہ اپنے قانون کو تمہارے لیے کیوں توڑے گا۔اس کا یہ قانون ہے کہ اگر اس کا کسی سے وعدہ ہے تو وہ قربانی کرے اور اس کے لیے جد و جہد کرے تو وہ اس کی مدد کرے گا اور وہ کامیاب ہو جائے گا۔جو لوگ ایسا کرتے ہیں وہ کامیاب ہو جاتے ہیں یا کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو ایسا کرتے ہیں اور کچھ ایسے ہوتے ہیں جو ایسا نہیں کرتے۔جو ایسا کرتے ہیں خدا تعالیٰ ان کی مدد کرتا ہے اور وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔اور جو لوگ ایسا نہیں کرتے اُن کو وہ مرتد اور بے ایمان بنا دیتا ہے۔اُن کا ایمان سلب ہو جاتا ہے۔پس ہماری جماعت کو اپنے اندر یہ احساس پیدا کر لینا چاہیے کہ ہم اس چیز کی امید نہیں رکھ سکتے جو پہلے نبیوں کے ساتھ نہیں ہوئی۔پہلے انبیاء کی جماعتوں کو قربانیاں کرنی پڑیں۔پہلے انبیاء کے ماننے والے اپنے ملک اور قوم میں مجنون کہلاتے تھے۔قرآن کریم اس قسم کے واقعات سے بھرا پڑا ہے۔پس جب تک ہم پہلی جماعتوں کی طرح قربانیاں نہیں کرتے ، پہلی جماعتوں کی طرح جب تک ہم مجنون نہیں کہلاتے ہم کیسے کامیاب ہو سکتے ہیں۔اگر آپ اپنے گھر جاتے ہوئے اپنی حفاظت کے لیے ادھر اُدھر نظر مارتے جاتے ہیں اور ڈر کی وجہ سے تبلیغ نہیں کرتے ، دین کی خدمت کی طرف توجہ نہیں کرتے تو تم مجنون نہیں کہلا سکتے۔مجنون کے تو معنے ہی یہ ہیں کہ وہ اپنی عاقبت کی پروا نہیں کرتا۔پھر بعض لوگ یہ بھی کہہ دیتے ہیں کہ اس طرح نوکریاں جاتی رہیں گی ، تجارتیں ضائع ہو جائیں گی اور پھر