خطبات محمود (جلد 29) — Page 260
خطبات محمود 260 $1948 پھر عیسائیوں کو جانے دو ہندوستان میں ہندوؤں کے کتنے سادھو پائے جاتے ہیں خواہ وہ مذہب جھوٹا ہی ہے مگر ان کے سادھوؤں کا کم از کم سولہ لاکھ کا اندازہ ہے۔اس کے معنے یہ ہوئے کہ ہندوستان میں سولہ لاکھ ہندو ایسے ہیں جو شادی بیاہ کا خیال ترک کر کے اور اپنا گھر بار چھوڑ کر ننگ دھڑنگ بھوت بنے پھر رہے ہیں۔کانگرس کو جو کامیابی ہوئی ہے اس میں بڑی مدد ان سادھوؤں کی تھی اور مجھے یاد ہے کہ جب گاندھی جی نے رولٹ ایکٹ پر شورش کا فیصلہ کیا اور کہا کہ ہم نان کو آپریشن Non-co-operati) کریں گے۔اُس وقت تین چار دن کے اندر اندر سارے ہندوستان میں ایسی آگ لگ گئی تھی کہ حیرت آتی تھی۔ہم سمجھتے تھے کہ قادیان ایک طرف ہے اس طرف کسی کی توجہ نہیں۔انہوں نے صرف پندرہ دن پہلے اعلان کیا تھا۔اس لیے خیال تھا کہ سب ملک میں خبر نہ پہنچی ہوگی۔میں نے چاہا کہ میں اپنے گرد کے لوگوں کو سمجھاؤں تا فساد نہ ہو۔میرا خیال تھا کہ یہاں کے لوگوں کو اس تحریک کی خبر تک نہ ہوگی۔جب میں نے رؤساء کو اکٹھا کرنے کے لیے آدمی بھیجے تو ان میں سے ایک آدمی نے مجھے آکر یہ بتایا کہ فلاں گاؤں کے زمینداروں کو میں نے بڑی مشکل سے یہاں آنے پر راضی کیا ہے۔وہ بات سننے سے پہلے ہی کہنے لگے کہ آخر مرزا صاحب کے آباء واجداد بھی اس علاقہ کے حاکم تھے اور اگر وہ دوبارہ حکومت حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہم اُن کی مدد کرنے کے لیے تیار ہیں۔ان کے ذہنوں میں یہ تھا کہ ہم نے انگریزوں کا مقابلہ کرنا ہے۔قادیان کے پاس ہی تین میل کے فاصلہ پر ٹھیکری والا ایک گاؤں ہے۔وہاں اُن دنوں کا فی تعداد میں پستول پہنچ گئے تھے اور وہاں ان کی پریکٹس بھی ہوا کرتی تھی۔میں نے جب اس کی تحقیقات کی تو معلوم ہوا کہ یہ سب کام سادھوؤں کا تھا جنہوں نے تمام علاقہ میں پھر کر اور چکر لگا کر یہ خبر پہنچا دی تھی۔ہندوستان میں آٹھ لاکھ گاؤں ہیں۔اس طرح 16 لاکھ سادھوؤں کے یہ معنے ہوئے کہ دو دو سادھو ایک وقت میں ایک ایک گاؤں میں جاسکتے ہیں اور اس طرح ایک چیز سارے علاقہ میں ایک دن میں پھیلائی جاسکتی ہے۔اس کے مقابلہ میں مسلمانوں میں ایسے کتنے لوگ ہیں جنہوں نے دین کے لیے اپنی زندگیاں وقف کر دی ہیں۔اللہ تعالیٰ اس آیت میں فرماتا ہے اے مسلمانو! تمہارا جو مقصد ہے تمہاری ہر وقت اس کی طرف توجہ ہونی چاہیے۔گزشتہ ایام میں جو کچھ ہندوؤں نے کوشش کی اُسے دیکھ لو اُن کا مقصد یہ تھا کہ ہندو قوم کی تنظیم کی جائے اور ان کو ترقی دی جائے۔اگر کوئی ہندو ایکسائز ڈیپارٹمنٹ EXCISE DEPARTMENT )