خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 237 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 237

$1948 237 خطبات محمود باپ بیٹے کو اپنی بات نہیں منوا سکتا، بیوی خاوند کو اپنی بات نہیں منوا سکتی ، خاوند بیوی کو اپنی بات نہیں منوا لی سکتا ، بھائی بھائی کو اپنی بات نہیں منوا سکتا حالانکہ ان کے درمیان قریب ترین رشتہ ہوتا ہے۔پاس پاس رہتے ہیں جب چھوٹی سے چھوٹی بات بھی اپنے قریبی رشتہ دار سے نہیں منوائی جاسکتی تو وہ ساری دنیا می سے کیسے منوائی جاسکتی ہے۔وہ دنیا جو ہمارے ساتھ نہیں رہتی ہماری رشتہ دار بھی نہیں۔ہم اس کی ساری زبانوں کے واقف بھی نہیں۔اعتقادی عملی ، جذباتی اور فکری ہر لحاظ سے وہ ہم سے مختلف ہے۔پھر اس ہر قسم کی خرابیاں پائی جاتی ہیں۔کیا اقتصادی، کیا سیاسی اور کیا نہ ہی ہم نے ان سب خرابیوں کو دور کرنا ہے۔پھر وہ ہماری مخالف ہے۔ہمارے پاس نہیں بیٹھتی بلکہ ہم سے دور بھاگتی ہے۔ہم نے اس کی دنیا کی اصلاح کرنی ہے۔اس کے لیے ہمیں کتنی محنت کی ضرورت ہے۔کتنی بڑی قربانی کی ضرورت ہے۔پس مخالفت کے کم ہو جانے پر مطمئن ہو کر نہیں بیٹھ جانا چاہیے بلکہ اس موقع کو غنیمت سمجھتے ہوئے پہلے سے بھی زیادہ جوش کے ساتھ لوگوں کو سمجھانے اور ان کی غلط فہمیوں کو دور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔اس دنیا میں اگر کسی سے آپ کی چالیس پینتالیس سال تک دوستی رہتی ہے اور اگلے جہان میں وہ جہنم میں چلا جاتا ہے تو یہ کوئی دوستی نہیں کہلا سکتی۔حقیقی دوستی یہی ہے کہ وہ بھی تمہارے ساتھ جنت میں ہو۔پس سنجیدگی اور پختہ عزم کے ساتھ کام کرو۔جب تک اس اہم کام کے متعلق آپ کے اپنے نفسوں میں سنجیدگی پیدا نہیں ہوتی دوسروں پر آپ کا کوئی نیک اثر نہیں پڑسکتا۔اس وقت زمانہ کی حالت نازک سے نازک تر ہوتی چلی جا رہی ہے اور مسلمانوں کے روحانی بچاؤ کی اب یہی صورت رہ گئی ہے کہ وہ ایک ہاتھ پر اکٹھے ہو جائیں اور سوائے احمدیت کے اور کسی ذریعہ سے مسلمان ایک ہاتھ پر اکٹھے نہیں ہو سکتے۔آخر دنیا کے تمام ممالک کسی ایک آدمی کے ہاتھ پر کیسے اکٹھے ہو سکتے ہیں۔یہ تغیر اسی صورت میں ہوسکتا ہے۔جب کوئی کہے کہ مجھے ی خدا نے بھیجا ہے۔پھر جس کی سمجھ میں اس کی بات آجائے گی وہ اس کے ہاتھ پر اکٹھا ہو جائے گا ور نہ تمام ملکوں اور حکومتوں کے اپنے اپنے پروگرام ہوتے ہیں اور وہ کسی دوسرے کی غلامی اختیار نہیں کر سکتے۔پس جب تک مختلف قومیتیں ایک آواز کے تابع نہیں ہو جاتیں۔اُس وقت تک تمام مسلمانوں کا ایک ہاتھ پر اکٹھا ہونا مشکل ہے۔یہ اختلاف اسی صورت میں ختم ہو سکتا ہے جب کوئی کہے کہ میں خدا کی طرف سے ہوں اور تمام لوگ قطع نظر اس سے کہ وہ مصری ہوں یا ایرانی ، عربی ہوں