خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 236 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 236

$1948 236 خطبات محمود کیا کرتا تھا۔ایک دفعہ ایک عورت جارہی تھی۔اس نے اُس عورت سے کہا کہ تمہارے پاس جو کچھ ہے نکال دو۔اس عورت کو پتہ نہیں تھا کہ وہ فلاں مشہور ڈاکو ہے ورنہ وہ اسے دیکھ کر ہی بے ہوش ہو جاتی۔جب اس ڈاکو نے اس عورت سے کہا کہ جو کچھ تمہارے پاس ہے نکال دو۔تو اس عورت نے کہا بیٹا ! تمہیں شرم نہیں آتی کہ تم اپنی ماں پر ہاتھ اٹھاتے ہو۔میں تمہاری ماں کے برابر ہوں اور پھر تم مجھ پر اپنا ہاتھ اٹھاتے ہو۔اس ڈاکو نے کہا اچھا اب تو نے مجھے اپنا بیٹا کہا ہے میں بھی اب تمہارا بیٹا ہی بن کر رہوں گا۔اس کے بعد وہ جب بھی کوئی چوری کرتا تھا تو اس سے اس عورت کو کچھ نہ کچھ نذرانہ دے کر آتا تھا اور اس کی بہت خدمت کیا کرتا تھا۔غرباء کو اس سے اس قدر محبت تھی کہ جب وہ گرفتار ہوا اور پولیس اُسے اسٹیشن پر لے گئی تو غرباء وہاں کثرت سے جمع ہو گئے اور انہوں نے اُس کی گرفتاری پر رونا شروع کر دیا۔اس لیے کہ وہ غرباء کی خدمت کیا کرتا تھا اور وہ اس دن اپنے محسن کی گرفتاری پر آنسو بہا رہے تھے۔وہ ڈاکو تھا ، ظالم تھا مگر یہ نہیں کہ اس کے اندر کوئی بھی خوبی نہیں تھی۔گندے سے گندا فرد ہی کیوں نہ ہو، گندی سے گندی قوم ہی کیوں نہ ہو اُس کے اندر کچھ نہ کچھ نیکی ضرور پائی جاتی ہے۔پس اگر کوئی شخص ہماری کسی بات کی تعریف کر دے اور ہم سمجھ لیں کہ وہ برائی کو چھوڑ بیٹھا ہے اور اس بات پر ہم خوش ہو جا ئیں تو یہ ہماری نادانی ہوگی۔ہماری جماعت کو ہمیشہ احتیاط سے کام لینا چاہیے۔جب تک وہ اُس صداقت کو پھیلا نہیں لیتی جو دنیا سے مٹ چکی ہے اُس وقت تک اسے صبر سے نہیں بیٹھنا چاہیے۔کسی معمولی سی اتحاد و اتفاق کی بات پر اگر کوئی پسندیدگی کا اظہار کر دے اور ہم اس پر خوش ہو کر اپنے فرض کی ادائیگی میں ست ہو جائیں اور یہ سمجھ لیں کہ بس ہم کامیاب ہو گئے ہیں تو یہ حماقت کی بات ہوگی۔یہ کوئی کامیابی نہیں ہے۔دوسرا آدمی اس بات پر خوش نہیں ہوتا کہ اس نے ہماری بات مان لی ہے اور احمد بیت کو سچا جان لیا ہے بلکہ وہ اس لیے خوش ہوتا ہے کہ اس کی بات مان لی گئی ہے۔پس جماعت کے دوستوں کو چاہیے کہ وہ زیادہ سے زیادہ وقت اشاعت دین میں صرف کرنے کی کوشش کریں۔ہمارے سپرد بہت بڑا کام ہے جسے ہم نے سرانجام دینا ہے۔دنیا کی اڑھائی ارب آبادی ہے جس کی ہم نے اصلاح کرنی ہے۔پھر ہم نے ان کے جسموں پر حکومت نہیں کرنی بلکہ ہمارے سامنے ان کے دلوں کی اصلاح کا سوال ہے۔دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ سالہا سال کوشش کرتے ہیں مگر پھر بھی وہ دوسرے سے اپنی بات نہیں منوا سکتے۔