خطبات محمود (جلد 29) — Page 206
$1948 206 خطبات محمود گندم باقی رہ گئی ہے۔ایک دن میں نے اس گندم کو نکالا اور اندازہ کیا۔اس کے بعد وہ گندم دس دن میں ہی ختم ہوگئی 1۔اللہ تعالیٰ کے راہ بے انتہا ہیں۔سب چیزیں اور مال و دولت اُس کے پاس ہے۔زمین و آسمان اُس کے پاس ہے، اُس کا اربوں ارب حصہ بھی کسی کے پاس نہیں۔پھر اُسے ہمارے چندوں کی کیا ضرورت ہے۔وہ تو ان ذریعوں سے ہمیں ثواب کا موقع عطا کرتا رہتا ہے ورنہ اُسے ان کی ضرورت نہیں۔ہزاروں ایسے امیر ہیں جو غریب ہو گئے اور ہزاروں ایسے غریب ہیں جو امیر ہو گئے۔پرسوں اخبار میں بلغاریہ کے سابق بادشاہ کے متعلق چھپا تھا کہ ایک شخص جو بلغاریہ میں اُس کا مکان اور گلیاں صاف کیا کرتا تھا بلغاریہ سے امریکہ چلا گیا۔وہاں اُس نے محنت سے کام کیا اور کوشش کی اور کچھ عرصہ کے بعد وہ لکھ پتی ہو گیا۔اُس نے بادشاہ کو ایک خط لکھا۔بعض لوگوں کو خط لکھنے کا شوق ہوتا ہے خواہ اُس سے کوئی فائدہ مدنظر ہو یا نہ ہو۔ایسے لوگ خیال کر لیتے ہیں کہ چلو ہمارے خط کا جواب آجائے گا تو ہمارے پاس نشان کے طور پر رہے گا۔بلغاریہ کے سابق بادشاہ نے اُس خط کا فوراً جواب لکھا کہ اُسے کھانے پینے کی سخت تکلیف ہے۔اگر وہ شخص اُسے خوراک کا پارسل بھیج دے تو اُس کی بڑی مہربانی ہو گی۔اخبار نے یہی سُرخی دی تھی کہ بادشاہ خاکروب سے بھیک مانگتا ہے۔اب دیکھو وہ خاکروب ایک وقت میں گلیاں صاف کیا کرتا تھا اور یہ بادشاہ تھا۔اب بادشاہ اس خاکروب کو لکھتا ہے کہ اگر تم خوراک کا ایک پارسل مجھے بھیجو تو تمہاری مہربانی ہوگی۔کیونکہ میں اب بڑھا ہو گیا ہوں اور خوراک کم ملتی ہے۔غرض بعض دفعہ بڑے سے بڑے آدمی کی حالت بھی گر جاتی ہے اور ادنیٰ سے ادنی آدمی ترقی کر کے بڑا بن جاتا ہے۔وہ شخص بیوقوف ہوتا ہے جو اس پر صدمہ کرتا ہے۔دہلی کے بادشاہوں کے بعض شہزادوں کو میں نے خود پانی پلاتے دیکھا ہے۔ایک دفعہ میں دہلی گیا۔ایک شخص گلیوں میں پانی پلا رہا تھا۔مجھے ایک دوست نے بتایا کہ یہ شہزادہ ہے۔میں نے اُسے کہا کہ تمہیں کس طرح معلوم ہوا کہ یہ شہزادہ ہے۔اُس نے کہا کہ میں جانتا ہوں اور میں اِس کا ثبوت بھی دے سکتا ہوں۔اُس نے اُس شہزادے کو بلایا اور پانی مانگا۔ہم نے پانی پیا۔اُس وقت قاعدہ یہ تھا کہ سٹے پانی پلاتے تھے اور پھر کٹورا آگے کر دیتے تھے۔قیمت مقرر نہیں ہوتی تھی۔پانی پینے والا پیسہ دو پیسے اُسے دے دیتا تھا۔پانی پینے کے بعد اُس دوست نے مجھے اشارہ کر دیا کہ اسے پیسہ نہ دینا۔وہ شہزادہ تھوڑی دیر گردن اکڑا کے کھڑا