خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 191 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 191

$1948 191 خطبات محمود اور اس نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! میرے بھائی کے دست بڑھ گئے ہیں۔آپ نے فرمایا اُسے اور کی شہد پلا دو۔تیسری دفعہ وہ پھر آیا اور اس نے کہا یا رسول اللہ ! میرے بھائی کے دست اور بھی زیادہ ہو گئے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے اور خدا تعالیٰ کا کلام سچا ہے۔جب خدا تعالیٰ نے کہا ہے کہ فِیهِ شِفَاء لِلنَّاسِ 2 تو میں اسے غلط کس طرح مان سکتا ہوں۔3 اب دیکھو یہ ایک ایسی چیز ہے جس کو انسان روحانی نگاہ سے ہی مان سکتا ہے جسمانی نگاہ سے نہیں۔ورنہ دست تو اُسے آرہے تھے پھر اُس کا پیٹ کیسے جھوٹا ہو گیا۔روحانی نگاہ سے تو ہم اس کو ضرور مان لیں گے مگر جسمانی عقل اس کو نہیں مان سکتی۔بلکہ اس واقعہ میں سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام نکال دو اور پھر کسی کو یہ قصہ سناؤ تو ہو سکتا ہے کہ وہ شخص کوئی سخت لفظ منہ سے نکال دے اور کہہ دے کہ یہ بات خلاف عقل ہے۔لیکن چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام ساتھ ہوتا ہے اس لیے لوگ مسلمانوں کے جذبات کی وجہ سے خاموش رہتے ہیں مگر کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں اس کی مادی تعبیر کر سکتا ہوں۔بے شک ہم روحانیت کی نگاہ سے تو اس بات کی صداقت کو ثابت کر دیں گے اور یہ بات سچی ہے ہم روحانیت کی نگاہ سے آپ کی بات کی معقولیت کو بھی ثابت کر دیں گے مگر جہاں تک دنیوی مادی دلائل کا سوال ہے دشمن کو جواب دینا ہمارے لیے مشکل ہو گا۔اب دیکھو یہ صرف ایک واقعہ ہے۔ایک شخص کو شہد پلایا جاتا ہے اور اُس کے دست کم نہیں ہوتے بلکہ بڑھ جاتے ہیں۔اس میں کسی تاویل یا تشریح کا کوئی سوال ہی نہیں۔ایک سے زیادہ افراد کا بھی سوال نہیں۔یہ بھی صاف طور پر نظر آ رہا تھا کہ اسے شہد سے فائدہ نہیں ہوا بلکہ بظاہر نقصان ہی ہوا مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے خدا کا کلام جھوٹا نہیں ہوسکتا۔اگر ایسے موقع پر جہاں بظاہر انسانی عقل اس شخص کی تائید کرتی تھی جس کے دست بڑھ گئے تھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرماتے ہیں کہ جاؤ تمہارے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے تو مجھ سے یہ کس طرح امید کی جاسکتی ہے کہ میں کوئٹہ کی جماعت کو سچا مان لوں گا اور خدا تعالیٰ کی بتائی ہوئی بات کو غلط کہ دوں گا۔یہاں مثال بھی موجود ہے کہ ایک شخص نے بیعت کی۔گویا یہاں واقعات نتیجہ کی تائید میں ہیں۔مگر وہاں واقعات اس نتیجہ کی تائید میں نہیں تھے مگر پھر بھی آپ نے خدا تعالیٰ کے کلام کو ہی سچا قرار دیا۔میرا یہ مطلب نہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ فرمایاوہ نَعُوذُ بِاللهِ درست نہیں تھا۔جو کچھ آپ نے فرمایا وہی درست تھا لیکن ظاہری واقعات