خطبات محمود (جلد 29) — Page 177
$1948 177 خطبات محمود تو آپ وہاں گئے اور لوگوں سے کہا یہ کیا لغو بات ہے کہ تم اس شخص کو مارنے لگ گئے ہو۔مگر ابھی آپ یہ نصیحت کر ہی رہے تھے کہ اُس شخص نے پھر وہی الفاظ دہرائے جو اُس نے مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم کے متعلق کہے تھے۔اس پر میر صاحب نے خود بھی اُسے دو چار تھپڑ لگا دیئے۔تو بسا اوقات انسان اس قسم کے بھی کام کر لیتا ہے جو لغو ہوتے ہیں۔دراصل رو چلنے کی دیر ہوتی ہے۔جب رو چل جائے تو لوگ خود بخود اُس کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں۔اگر ہماری جماعت میں بھی قربانی کی رو چل جائے گی تو یہ لازمی بات ہے کہ ہر رو انہیں پہلے سے اور زیادہ آگے لے جائے گی اور یہ سلسلہ اسی طرح بڑھتا چلا جائے گا۔ایک کے بعد دوسری، دوسری کے بعد تیسری اور تیسری کے بعد چوتھی رو پیدا ہوگی اور قربانی میں ترقی کرتے کرتے تمہاری یہ حالت ہو جائے گی کہ وہی چیز جسے تم آج اپنی موت سمجھتے ہو اگر اس کے چھوڑنے کا تم سے تمہاری بیوی مطالبہ کرے گی تو تم اُس بیوی کو طلاق دینے کے لیے تیار ہو جاؤ گے۔اگر تمہارا بچہ اس قربانی کے خلاف مشورہ دے گا تو تم اُس بچہ کو عاق کرنے کے لیے تیار ہو جاؤ گے اور وہی چیز جو آج تم کو موت سے پیچھے ہٹا دیتی ہے تمہیں سب سے زیادہ پیاری ، سب سے زیادہ محبوب اور سب سے زیادہ خدا کے قریب کرنے والی نظر آئے گی"۔خطبہ ثانیہ کے بعد حضور نے فرمایا: "نماز جمعہ کے بعد میں کچھ جنازے پڑھاؤں گا۔پیرا کبر علی صاحب جو ہماری مجلس شورای کی مالی سب کمیٹی میں بڑی سرگرمی سے حصہ لیا کرتے تھے اور بڑے نیک اور مخلص انسان تھے فالج کے حملہ سے راولپنڈی میں فوت ہو گئے ہیں۔آپ فیروز پور کے رہنے والے تھے اور وہاں کی جماعت کے امیر بھی رہ چکے ہیں۔اسی طرح قادیان میں حافظ نور الہی صاحب وفات پاگئے ہیں۔یہ بہاول پور کے رہنے والے تھے اور قادیان کی حفاظت کے لیے گئے تھے۔کچھ عرصہ بیمار رہنے کے بعد وہیں فوت ہے گئے۔مجھے اُن کا ذکر کرتے ہوئے اُن کی وفات کی وجہ سے نہیں بلکہ ایک اور واقعہ کی وجہ سے رقت آگئی۔میں دیکھتا ہوں کہ ایک تو وہ لوگ ہیں جو قربانی سے گریز کرتے اور بھاگتے ہیں اور ایک وہ لوگ ہیں جو قربانی میں ہی لذت محسوس کرتے ہیں۔حافظ نور الہی صاحب کا ایک ہی بچہ ہے اور وہ بھی ابھی چھوٹا اور نابالغ ہے۔کوئی جائیداد بھی ایسی نہیں جو گزارہ کے لیے کافی ہو۔صرف تنخواہ پر انحصار تھا جو ان ہو