خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 176 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 176

$1948 176 خطبات محمود دیتے تھے اور اب اتنا چندہ دیں گے۔بعض لوگ یہ کرتے ہیں کہ میری اس تحریک کے جواب میں چندہ وصیت کو بڑھا دیتے ہیں۔میری تحریک کا ہر گز یہ مطلب نہیں۔میں نے چندہ بڑھانے کو کہا ہے وصیت کو بڑھانے کو نہیں کہا۔میری بات کو پورا کرنے والے آپ تبھی بنیں گے جب آپ اپنے موعودہ چندہ وصیت اور دوسرے موعودہ چندوں سے زائد رقم کو تحریک ستمبر میں جمع کرنے کی ہدایت دیں گے۔اگر وصیت کو بڑھائیں گے تو وصیت کی زیادتی کا ثواب تو ضرور آپ کو ملے گا مگر میری بات کا ثواب آپ کو نہیں ملے گا۔مگر میری بات ماننے کی صورت میں آپ کو دو ثواب ملیں گے۔اسی طرح خدا تعالیٰ چاہے تو ہر شخص کو تحریک کا ممبر بنے کی توفیق بھی مل جائے گی۔آخر تبلیغ کا وہ وسیع سلسلہ جو تحریک جدید کے ریعہ دنیا میں نہایت کامیابی کے ساتھ جاری ہے اور جس کے نہایت اچھے آثار اور خوش گن نشانات نظر آرہے ہیں اُس کے متعلق کسی مومن کا دل یہ برداشت ہی کس طرح کر سکتا ہے کہ اُس میں اُس کا حصہ نہ ہو۔ہم تو دیکھتے ہیں دنیا میں چھوٹی سے چھوٹی باتوں میں بھی حصہ لینے کے لیے انسان تیار ہو جاتا ہے بلکہ اچھی باتیں تو الگ رہیں بُری سے بُری بات میں بھی حصہ لینے کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔مجھے یاد ہے کہ قادیان میں ایک دفعہ ایک شخص نے کچھ بے جا الفاظ مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم کے متعلق کہے۔لوگوں نے اُسے مارنا شروع کر دیا۔وہ شخص ضدی تھا۔لوگ اُسے مارتے جاتے مگر وہ یہی کہتا جا تا کہ میں تو یہی کہوں گا۔لوگ اُسے پھر مارنا شروع کر دیتے اور یہ جھگڑا بڑھ گیا۔ہم اس وقت چھوٹی عمر کے تھے۔ہمارے لیے یہ ایک تماشہ بن گیا۔وہ مار کھاتا جاتا اور کہتا جاتا کہ میں تو یہی کہوں گا۔لوگ اُسے مارتے۔یہاں تک کہ وہ اُسے مار مار کر تھک گئے۔اُن دنوں ایک غیر احمدی پہلوان حضرت خلیفہ اسی الاول کے پاس علاج کے لیے آیا ہوا تھا۔( آپ اُس وقت خلیفہ اسیح نہیں ہے تھے ) اُس نے جب یہ شور سُنا تو خیال کیا میں کیوں اس ثواب سے محروم رہوں۔مجھے بھی اس میں حصہ لینا چاہیے۔چنانچہ وہ گیا اور اُسے بھمیری کی طرح اُٹھا کر زمین پر دے مارا لیکن وہ گر کر یہی کہتا کہ میں تو یہی کہوں گا۔ہمارے لیے یہ ایک تماشہ بن گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو جب معلوم ہوا تو آپ بہت ناراض ہوئے اور فرمایا کہ کیا ہماری یہی تعلیم ہے؟ دیکھو ! لوگ ہمیں گالیاں دیتے ہیں لیکن ہمارا اُس سے کیا بگڑ جاتا ہے۔اگر اُس نے کچھ بے جا الفاظ مولوی عبد الکریم صاحب کے متعلق بھی استعمال کر دیئے تو کیا ہو گیا اور تو اور ہمارے نانا جان میر ناصر نواب صاحب مرحوم نے جب یہ دیکھا