خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 160 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 160

$1948 160 خطبات محمود تو جو اپنے لیے قانون بناؤ گے وہی ہمارے لیے ہونا چاہیے۔بہر حال ایک ہی قانون ہونا چاہیے۔یہ نہیں کہ کسی کے لیے کوئی قانون ہو اور کسی کے لیے کوئی قانون۔اگر جماعت یہ فیصلہ کرے کہ ہر امیر و غریب کو فاقہ سے رہنا چاہیے تو ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔یقیناً اگر جماعت ایسا کرنا چاہے تو گو یہ غیر طبعی بات ہوگی مگر ہو گی مفید۔دنیا میں ایسا کبھی نہیں ہوا۔سوائے جنگ کے حالات کے۔جنگ کے دوران میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ فر مایا تھا کہ اگر کسی کے پاس ایک من غلہ ہے تو ایک من غلہ لے آئے اور جس کے پاس ایک سیر غلہ ہے تو وہ ایک سیر غلہ لے آئے۔۔۔اور سب مل کر کھائیں مگر عام حالات میں ایسا کبھی نہیں ہوا۔نہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا، نہ حضرت موسی علیہ السلام نے ایسا کیا، نہ حضرت عیسی علیہ السلام نے ایسا کیا اور نہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایسا کیا۔پھر بھی جماعت اگر ایسا فیصلہ کر دے تو اُس کے کئی پہلو نیک بھی ہو سکتے ہیں۔لیکن اگر یہ فیصلہ ہو کہ سادگی اور قربانی دونوں نسبتی چیزیں ہیں تو ہمارے خاندان کے افراد سے بھی نسبتی قربانی کا ہی مطالبہ ہوسکتا ہے۔اگر وہ اس سے زیادہ کریں یہ اُن کی خوش قسمتی ہو گی۔مثلاً جماعت سے میں نے مطالبہ کیا ہے کہ جن کو خدا تعالیٰ توفیق دے وہ 50 فیصدی چندہ دیں۔اب اگر کوئی ایسا شخص 50 فیصدی چندہ دے دیتا ہے اور پھر اُس کے پاس اتنا روپیہ بچ جاتا ہے جس سے وہ گوشت کھاتا ہے تو دال کھانے والا آدمی اُس پر یہ اعتراض نہیں کر سکتا کہ وہ دال کیوں نہیں کھاتا۔یہ اعتراض اُسی وقت ہوسکتا ہے جب جماعتی طور پر یہ فیصلہ کیا جائے کہ ہر شخص دال ہی کھائے۔تب بے شک اگر کوئی شخص دال نہیں کھاتا اور شور با کھاتا ہے تو وہ غداری کرتا اور دھوکا بازی کا ارتکاب کرتا ہے۔پھر اُس خاتون نے لکھا ہے کہ خاندان کی عورتیں کام نہیں کرتیں۔یہ بھی واقعہ کے خلاف ہے۔اول تو ہر چیز کی ایک نسبت ہوتی ہے۔میری بڑی بیوی کی عمر اس وقت 57 سال کی ہے۔پھر انہیں بلڈ پریشر (Blood Pressure ) کا مرض ہے۔دل کی دھڑکن ہے اور استحاضہ کی بھی بیماری ہے جس میں عورت قریب المرگ ہو جاتی ہے۔اب مساوات تو تبھی ہوسکتی ہے جب اُس عورت کو بھی یہی بیماریاں ہو جائیں ورنہ یہ کتنی حماقت کی بات ہوگی کہ ساٹھ سالہ عمر والی عورت کے متعلق ایک 25 سالہ عورت یہ کہنے لگ جائے کہ دیکھو میں یہ کام کر لیتی ہوں مگر وہ نہیں کرتی۔اس عمر اور اِن بیماریوں کے ساتھ اگر موازنہ کیا جائے پھر مساوات ہوتی۔ولایت میں دستور ہے کہ گھوڑ دوڑ سے پہلے