خطبات محمود (جلد 29) — Page 159
خطبات محمود 159 $1948 بعض چیزوں کے بارہ میں بے شک اصول مقرر ہیں اور اُس میں سب برابر ہیں مثلاً ہم نے یہ فیصلہ کیا ہوا ہے کہ سب لوگ ایک کھانا کھا ئیں۔مگر ہم نے یہ نہیں کہا کہ صرف دال کھاؤ۔جو گوشت کھا سکتا ہے وہ گوشت کھائے ، جو بھنا ہوا گوشت کھا سکتا ہے وہ بھنا ہوا گوشت کھائے۔ہزاروں احمدی یسے ہوں گے جن کے گھر میں بھنا ہوا گوشت پکتا ہوگا۔ہم تو پچھلے آٹھ مہینہ سے پہلے اور لمبے شور با پر ہی گزارہ کرتے ہیں لیکن اس کے یہ معنی نہیں کہ اگر کوئی بھنا ہوا گوشت کھاتا ہے تو یہ قابلِ اعتراض امر ہے۔اگر ایک آدمی کے گھر کے افراد کم تھے اور اُسکے گھر کے حالات بھی اچھے تھے اور اُس نے بھنا ہوا گوشت کھایا تو یقیناً اُس نے ایک کھانا کھانے کے حکم کو پورا کر دیا۔لیکن کئی احمدی ایسے بھی ہیں جن کو شور با تو کیا دال بھی مشکل سے ملتی ہے۔ایسے احمدیوں سے ہماری حالت یقیناً اچھی ہے۔پھر کئی ایسے بھی ہیں جن کو دال بھی نہیں ملتی۔بلکہ ایسے بھی پائے جاتے ہیں جن کو دو وقت کے فاقے آتے ہیں۔تم ماروں کے متعلق کوئی ایک قانون نہیں بنا سکتے۔ہاں اپنی اپنی حالت کے مطابق ہر شخص سادہ زندگی اختیار کرے گا۔دو وقت کا فاقہ کرنے والا یاوہ جس نے پھٹا پرانا لباس پہنا ہے دوسرے کو یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ کیوں سیر ہو کر کھانا کھاتا ہے یا کیوں اُس نے اچھے کپڑے پہنے ہوئے ہیں؟۔ہم کہیں گے کہ ایک کی آمد زیادہ ہے وہ اچھے کھانے کھا تا اور اچھے کپڑے پہنتا ہے اور دوسرے کی آمد کم ہے اس لیے وہ قے کرتا ہے۔یاتن ڈھانکنے کے لیے اُس کے پاس پھٹا پرانا لباس ہے لیکن قانون کی پابندی دونوں نے کی ہے۔یعنی ہر ایک ہی نے کھانا کھایا ہے اور گوٹے کناری پر اپنا روپیہ تحر یک کے بعد ضائع نہیں کیا۔غرض سادگی ایک نسبتی چیز ہے اور قربانی بھی نسبتی امر ہے۔پھر ہمارے لیے کیوں ایسا کرنا جائز نہیں ؟ اگر ہم چندہ دوسروں کی نسبت زیادہ رکھیں اور ہمارا معیار قربانی بھی دوسروں کی نسبت زیادہ بلند ہواور پھر ہماری حالت ہر شخص سے اچھی ہو اور بعض سے خراب تو ہم پر اعتراض کیسا؟ بہر حال تمہیں دو میں سے ایک بات ضرور ماننی ہوگی۔شتر مرغ کی طرح تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہم اونٹ بھی ہیں اور مرغ بھی۔یا تو تمہیں اونٹ بنا پڑے گا یا مرغ۔یہ دونوں چیزیں ایک وقت میں اکٹھی نہیں ہو سکتیں۔یا تو یہ فیصلہ کیا جائے کہ جماعت کے غریب سے غریب آدمی کی حالت کے برابر سب کو رہنا چاہیے۔اگر ایسا فیصلہ کیا جائے تو ہم انشاء اللہ کسی سے پیچھے نہیں رہیں گے۔اور اگر یہ فیصلہ ہو کہ یہ نسبتی چیز ہے