خطبات محمود (جلد 29) — Page 123
$1948 123 خطبات محمود میرے سامنے ہے اس سے زیادہ میں اُس وقت کے کسی نظارہ کو یاد نہیں کر سکتا۔اس خواب کی بناء پر جو ہے میں نے بیان کی ہے ایک تو میں سمجھا کرتا تھا کہ شاید مولوی غلام حسن صاحب کو جو اس وقت غیر مبائعین میں شامل تھے خدا تعالیٰ ہدایت دے دے۔چنانچہ مولوی صاحب نے اس خواب کے چند سال بعد میری بیعت کر لی اور وہ مبائعین میں شامل ہو گئے اور فوت ہونے کے بعد مقبرہ بہشتی میں مدفون ہوئے۔دوسرے حصہ کے متعلق میری خواہش تھی کہ میں خود پشاور آؤں۔پشاور آنے کے متعلق خود جماعت کے بعض افراد کسی اور وقت آنے کا مشورہ دیتے تھے اور بعض کسی اور وقت آنے کا مشورہ دیتے تھے۔اس طرح میری پشاور آنے کی خواہش جلد پوری نہ ہوسکی۔اب اتنے سالوں کے بعد یعنی رؤیا کے دس گیارہ سال بعد اللہ تعالیٰ نے ایسے سامان پیدا کیے کہ میں یہاں آسکا اور مجھے خوشی ہے کہ جماعت کے دوستوں نے اخلاص کا نہایت اعلیٰ نمونہ دکھایا ہے۔سرحد کے چاروں طرف سے جماعت کے اکثر دوست آکر مجھے ملے۔نوجوانوں اور لڑکوں کے لیے یہ پہلا موقع تھا کہ وہ مجھے ملتے۔اور ان کے لیے خدا تعالیٰ نے یہ صورت پیدا کر دی کہ میں پشاور آؤں اور یہاں کے حالات دیکھوں اور ایسی سکیم بناؤں جس سے اس علاقہ میں احمدیت کی ترقی کی صورت جلد پیدا ہو۔اس طرح میرے آنے سے یہاں کے لوگوں کو مجھے ملنے کا موقع حاصل ہو گیا۔پھر ا خلاص اور ایمان ہی تھا جس کی وجہ سے بعض دوستوں نے دعوتیں کیں اور مختلف مجالس میں مختلف طبقہ کے لوگوں سے ملاقات ہوگئی۔جماعت کی کوشش سے دو لیکچر بھی ہو گئے اور اس طرح شہر کے لوگوں تک ہمارے خیالات پہنچ گئے۔میل ملاقات کے ساتھ اختلاف دور ہو جاتا ہے یوں تو اختلاف باپ بیٹے میں، بھائی بھائی میں اور بیوی اور خاوند میں بھی ہوتا ہے مگر اختلافات کو تفرقہ اور افتراق کا موجب بنالینا درست نہیں۔میل ملاقات نہ ہو تو لوگ خیال کر لیتے ہیں معلوم نہیں احمدی کیسے ہوں گے۔ایک دوست جو ڈاکٹر ہیں اور اب مخلص احمدی ہیں وہ اختلاف خلافت کے وقت لاہور والوں کے ساتھ تھے۔وہ قادیان آئے اور مغرب کی نماز کے بعد مجھے ملے اور کہنے لگے میں نے بیعت کرنی ہے۔وہ بہت نازک مزاج ہیں۔میں نے انہیں کہا آپ اچھی طرح سوچ سمجھ لیں۔اُنہوں نے کہا میں نے سب باتیں سوچ سمجھ لی ہیں۔میں قادیان میں جب نہیں آیا تھا تو یہاں کےلوگوں کے متعلق سنتا تھا کہ وہ چندہ کے نام پر روپیہ جمع کر لیتے ہیں اور پھر آپس میں بانٹ لیتے ہیں۔یہ دیکھنے کے لیے قادیان آیا کہ یہ بات کہاں تک ٹھیک ہے۔یہاں آکر دیکھا کہ