خطبات محمود (جلد 29) — Page 100
$1948 100 خطبات محمود خود مخاطب کیا ہے تو معلوم ہوا کہ میرے سمجھنے کے لیے اُس نے تمام سامان اس میں رکھ دیا ہے۔اگر سامان نہ ہوتا تو مجھے مخاطب ہی نہ کرتا۔اس رنگ میں قرآن کریم کو پڑھنے کی وجہ سے جو فائدہ میں نے اٹھایا ہے وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد اور کسی نے نہیں اٹھایا۔میں نے اپنے تصور میں خدا تعالیٰ کو اپنے سامنے بٹھا کر اُس سے قرآن کریم پڑھا ہے اور دوسرے لوگوں نے انسانوں سے قرآن کریم کو پڑھا ہے۔اسی لیے مجھے قرآن کریم سے وہ علوم عطا ہوئے ہیں جو دوسروں کو عطا نہیں ہوئے اور اسی وجہ سے ہر علم والے پر اللہ تعالیٰ مجھے کامیابی دیتا چلا آیا ہے۔اکثر دفعہ ایسا ہوا ہے ریق مخالف نے مجھ سے گفتگو کر کے تسلیم کیا ہے کہ وہی بات درست ہے جو میں پیش کر رہا ہوں۔اور اگر کوئی ضدی بھی تھا تو بھی وہ میری بات کا انکار نہیں کر سکا۔غرض قرآن کریم میں وہ علوم موجود ہیں جو دوسری کتب میں نہیں۔پھر یہ کیسی بدقسمتی ہوگی کہ ہمارے گھر میں تو خزانہ پڑا ہو اور ہم دوسروں سے پیسہ پیسہ مانگ رہے ہوں ، ہمارے گھر میں سونے کی کان پڑی ہو اور ہم دوسروں کے سامنے دست سوال دراز کر رہے ہوں۔قرآن کریم کی موجودگی میں دوسروں سے علم حاصل کرنے کی مثال ایسی ہی ہے جیسے خزانہ رکھنے والا دوسروں سے ایک پیسہ مانگنے لگ جائے۔پس قرآن کریم پڑھنے اور اسے سمجھنے کی کوشش کرو۔اس کے لیے کسی لمبے غور اور فکر کی ضرورت نہیں۔اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنے فضل سے ایسے علوم عطا فرمائے ہیں جن سے بہت آسانی کے ساتھ لوگ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔انہیں چاہیے کہ وہ میری کتابیں پڑھیں ان سے بہت جلد وہ قرآنی علوم سے آگاہ ہو جائیں گے۔ہوسکتا ہے کہ اس موقع پر کسی شخص کے دل میں یہ سوال پیدا ہو کہ ابھی تو آپ نے کہا کہ میں نے رازی کی معرفت قرآن کریم نہیں پڑھا، میں نے ابو حیان اور ابن جریر کی عینک لگا کر قرآن کریم پر غور نہیں کیا بلکہ خدا تعالیٰ کے کلام کو خدا تعالیٰ کے کلام کی عینک لگا کر پڑھا ہے اور اب آپ کہہ رہے ہیں کہ دوسروں کو میری کتابیں پڑھنی چاہیں۔اس فرق کی کیا وجہ ہے؟ اس کے متعلق یا د رکھنا چاہیے کہ علامہ ابو حیان اور ابن جریر وغیرہ نے ایسی طرز پر قرآن کریم کی تفسیر کو لیا ہے کہ وہ زیادہ تر ظاہری علوم کی طرف چلے گئے ہیں مغز کی طرف نہیں گئے۔لیکن میری تفسیر ایسی ہے جس میں صرف مغز کو پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔اس لیے ہمارے علوم کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ کی معرفت انسان کو جلد حاصل