خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 81 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 81

$1948 81 خطبات محمود ایمان ہے کیونکہ یہی چیزیں ہیں جن کی وجہ سے اُس کا نام ایمان رکھا گیا ہے۔بے شک ایک سڑا گلا آم بھی آم ہی کہلاتا ہے مگر آم کا نام رکھنے والے کے مدنظر وہ آم نہیں تھا جس کو ایک فقیر بھی اٹھا کر پھینک دے بلکہ وہ آم تھا جسے امراء کھاتے ہیں اور جن کو درمیانی طبقہ کے لوگ بھی ترستے ہیں۔جب کسی نے خربوزہ کو اچھا پھل قرار دیا تھا تو خربوزہ کو اُس نے وہ خربوزہ قرار دیا تھا جو روپیہ ڈیڑھ روپیہ سیر بکتا ہے جس کا مزہ شیریں ہوتا ہے اور جسے درمیانے درجہ کے لوگ بھی ترستے ہیں۔یا جب کسی نے انگور کو اچھا پھل قرار دیا تھایا انار کو اچھا پھل قرار دیا تھا تو اس سے مراد اعلیٰ درجے کا انگور اور اعلیٰ درجے کا انار ہی تھا اور ادنی اور ذلیل قسم کا پھل نہیں تھا۔ایسے ایسے انار بھی ہوتے ہیں جو روپیہ کے پچاس پچاس مل جاتے ہیں اور اُن کا انار دانہ بھی نہیں بن سکتا۔بے شک لوگ اُن اناروں کو کھاتے ہیں اس لیے کہ اُن کا نام انار ہوتا ہے۔لیکن وہ قیمتی انار جو طائف میں ہوتا ہے یا مسقط وغیرہ میں ہوتا ہے اور جس کی وجہ سے انار کو اچھا پھل قرار دیا جاتا ہے اُس کا یہ مقابلہ نہیں کر سکتے۔اور درحقیقت اُسی انار کا کھانا انسان کے اندر خون صالح پیدا کرتا ہے ورنہ یہ انار جو ہمارے ملک کے پہاڑوں میں خودر وطور پر پایا جاتا ہے مزہ میں کھتا ہوتا ہے، معدہ کو خراب کرتا ہے اور کھانسی وغیرہ پیدا کر دیتا ہے۔اسی طرح جب کوئی شخص ایمان کا دعوی کرتا ہے تو اُسے سوچنا چاہیے کہ اس کے اندر کس قسم کا ایمان پایا جاتا ہے؟ کیا وہ ایمان تو نہیں پایا جاتا جس میں جھوٹ بولنا بھی جائز ہے، جس میں ظلم بھی جائز ہے، جس میں پر ایا مال کھانا بھی جائز ہے، جس میں قربانی کے مواقع پر بھاگ جانا بھی جائز ہے، جس میں نمازوں کو چھوڑ دینا بھی جائز ہے، جس میں زیادہ چندہ دینے کے خوف سے اپنی اصل آمد کو چھپانا بھی جائز ہے۔اگر کسی کے اندر یہ خرابیاں پائی کی جاتی ہیں اور پھر وہ کہتا ہے کہ میرے اندر ایمان پایا جاتا ہے تو اُسے سمجھ لینا چاہیے کہ ان چیزوں کا نام ایمان نہیں۔اسی طرح خربوزہ اُس گندے اور بدمزہ پھل کا نام نہیں رکھا گیا جس کو جانور بھی نہیں کھاتا۔اس طرح ایمان بھی اس چیز کا نام نہیں۔بے شک ایک سڑے ہوئے خربوزے کو بھی ہم خربوزہ ہی کہیں گے لیکن وہ اصل خربوزہ کی ایک بگڑی ہوئی اور خراب شدہ شکل ہوگی ، اُسے کوئی عقل مند انسان کھانے کے لیے تیار نہیں ہوگا۔یا وہ کھانا جس پر کئی دن گزر جائیں اور سڑ کر بد بودار ہو جائے وہ کہلاتا تو کھانا ہی ہے لیکن جب وہ سڑ جائے تو تم کیا کرتے ہو؟ تم اُسے اٹھا کر کتے کے آگے پھینک دیتے ہو۔اسی طرح اگر تم بھی ناقص اور بد بودار ایمان رکھ کر یہ سمجھتے ہو کہ تمہارے اندر ایمان پایا جاتا ہے تو تمہاری مثال