خطبات محمود (جلد 29) — Page 80
$1948 80 خطبات محمود سے کھاتے ہیں۔اور ایسے آم بھی ہوتے ہیں کہ اگر وہ آم تم کسی فقیر کو بھی دو تو وہ نظر بچا کر پھینک دے گا۔سردہ بھی مختلف قسم کا ہوتا ہے۔ایسے اعلیٰ سردے بھی ہوتے ہیں جنہیں کھا کر لذت محسوس ہوتی ہے، جسم میں طراوت پیدا ہوتی ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ سارے اعضاء میں تازگی آگئی ہے۔اور ایسے بھی ہوتے ہیں جو خشک کھنے اور بدبودار ہوتے ہیں۔انہیں چیر و تو پلکس کر کے اُن میں سے گیس نکلتی ہے اور کھاؤ تو سخت تلخ اور بدمزہ ہوتے ہیں۔اب اگر ایسا سردہ تم کسی کو دو تو وہ اُسے کھائے گا یا اسے اٹھا کر پھینک دے گا ؟ وہ اسے کھائے گا نہیں بلکہ اٹھا کر پرے پھینک دے گا۔اور اگر کوئی کھائے گا تو تم اُسے وحشی اور اجد قرار دو گے۔لیکن ایسے بھی سردے ہوتے ہیں جنہیں بڑے بڑے امراء بھی بڑے شوق سے کھاتے ہیں۔غرض نام کے لحاظ سے چیز ایک ہی ہوتی ہے مگر ایک کے کھانے والے کو جب تم دیکھتے ہو تو کہتے ہو یہ بڑا امیر آدمی ہے اور دوسرے کے متعلق کہتے ہو یہ بڑا وحشی اور اُجڈ ہے۔ایک آم کا ذکر آئے تو تم ترستے ہو اور کہتے ہو ہم غریبوں کو وہ کہاں میسر آسکتا ہے۔وہ توسوسو روپیہ سینکڑہ پکتا ہے۔اور دوسرا شخص ایک آم کھاتا ہے تو تم کہتے ہو وہ تو وحشی اور اُجڑ ہے۔اس طرح تمہیں بھی سوچنا چاہیے کہ کونسا ایمان ہے جو تمہارے اندر پایا جاتا ہے۔اس ہیل والے کو اتنی تمیز تھی کہ اس نے پوچھ لیا کہ کیہڑا بیل ؟ مگر تمہاری سمجھ میں آتا ہی نہیں کہ جب تم ایمان ایمان کہتے ہو تو کبھی یہ بھی سوچ لیا کرو کہ تمہارے اندرکونسا ایمان پایا جاتا ہے؟ اگر تمہارا ایمان وہ تفاصیل اپنے ساتھ رکھتا ہے جو اعلیٰ درجہ کے ایمان کے ساتھ ہوا کرتی ہیں۔اگر تم نمازوں کے پابند ہو، اگر تم روزے رکھنے سے جی نہیں چراتے ، اگر تم دوسروں کا مال نہیں کھاتے ، اگر تم اپنے کاموں میں سُست اور غافل نہیں، اگر دین کے لیے قربانی کرنے کی روح تم میں پائی جاتی ہے، اگر قربانی کے مواقع پر تم بھاگنے کی کوشش نہیں کرتے بلکہ اللہ تعالیٰ کے دین کے لیے جان قربان کرنے کی تڑپ تمہارے اندر ہر وقت پائی جاتی ہے، اگر صداقت اور راست گفتاری کی عادت تمہارے اندر پائی جاتی ہے، اگر تم میں یہ وصف پایا جاتا ہے کہ تم ہمیشہ سچ بولتے ہو خواہ تمہارے باپ کو نقصان پہنچے یا تمہارے بیٹے کو تکلیف پہنچے ، اگر سچ بولنے کی وجہ سے تمہارا بیٹا پھانسی چڑھتا ہے یا تمہارا باپ پھانسی چڑھتا ہے اور تم کہتے ہو میں تو سچ ہی بولوں گا ، اگر میرا باپ یا میرا بیٹا پھانسی چڑھتا ہے تو بے شک چڑھ جائے، اگر تم میں اتنا اخلاص پایا جاتا ہے کہ تم سمجھتے ہو کہ دین کے مقابلہ میں میں کسی چیز سے محبت نہیں کر سکتا۔تب بے شک یہ کہا جا سکتا ہے کہ تمھارے اندر وہ چیز پائی جاتی ہے جس کا نام