خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 61 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 61

$1948 61 خطبات محمود جب مصیبت آئی تو میں نے اپنے دل پر پتھر رکھ لیا اور انگریزی میں اس کا ترجمہ اس طرح کیا جائے کہ جب مجھ پر مصیبت آئی تو میں نے دل پر پتھر رکھ کر پٹی باندھ لی تو کیسی بنسی کی بات ہوگی۔اسی طرح جب ایک عرب پڑھتا ہے کہ فلاں ہندوستانی یہ کہہ رہا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیٹ پر پتھر باندھے تو وہ ہنستا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ پتھر باندھنے کے معنے صرف اتنے ہیں کہ پڑکا باندھ لیا۔یہ نہیں کہ پتھر باندھ لیے۔تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اپنے پیٹ پر پڑکا بھی باندھنا پڑا۔5 اور کبھی اچھی غذا میں بھی آپ نے کھائیں۔ایک صحابی کہتے ہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک دفعہ دستر خوان پر گوشت پکا ہوا آیا جس میں کدو پڑا ہوا تھا۔تو آپ اپنے ہاتھ سے کدو کے قتلے تلاش کر کر کے کھاتے تھے کیونکہ وہ آپ کو بہت مرغوب تھا 6 مگر پھر وہ وقت بھی آیا جب آپ کو کھانا نصیب نہ ہوا۔وہ شخص احمق ہے جو کہتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمدہ گوشت کیوں کھایا۔وہ شخص احمق ہے جو کہتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمدہ شہد کے شربت کیوں ہے۔وہ شخص احمق ہے جو کہتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اچھی غذا ئیں کیوں کھائیں۔کیونکہ وہ یہ نہیں دیکھتا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فاقے بھی کیے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیٹ پر چھلکے بھی باند ھے۔ایسے دن بھی تو آپ پر آئے کہ ایک فقیر عورت آپ کے گھر میں مانگنے کے لیے آئی تو حضرت عائشہ فرماتی ہیں۔اُس دن ہمارے گھر میں اپنے کھانے کے لیے کچھ نہ تھا۔آخر سارے گھر میں تلاش کرنے پر صرف ایک کھجور ملی اور وہ میں نے اُس عورت کو دے دی۔اُس عورت نے وہ کھجور اپنے منہ وہ میں رکھ کر اُس کے دوٹکڑے کیے۔اُس کے ساتھ دو بچیاں تھیں۔اُس نے آدھا ٹکڑا ایک بچی کو اور آدھا ٹکڑا دوسری بچی کو دے دیا۔حضرت عائشہ اس سے بڑی متاثر ہوئیں اور اُنہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا یا رسول اللہ! وہ بڑی بھو کی تھی مگر ہمارے گھر میں بھی کچھ نہ تھا۔صرف ایک کھجور ملی جو میں نے اُس کو دے دی۔مگر یا رسول اللہ! وہ کھجور بھی اُس نے خود نہیں کھائی بلکہ اُس کے دو ٹکڑے کر کے اُس نے ایک ٹکڑا اپنی ایک بیٹی کو دے دیا اور دوسرا ٹکڑا دوسری بیٹی کو دے دیا۔آپ نے فرمایا عائشہ ! اگر کسی کے گھر میں دولڑ کیاں ہوں اور وہ اُن کی اچھی پرورش کرے تو خدا اُس کے لیے جنت واجب کر دیتا ہے۔7 غرض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وہ دن بھی تو