خطبات محمود (جلد 29) — Page 56
$1948 56 خطبات محمود ہیں۔پھر سوال یہ ہے کہ میں نے اُن کو خاص طور پر کیوں مخاطب کیا ؟ ہمارے ملک میں پنجابی کی ایک مثل مشہور ہے جسے عام طور پر عورتیں استعمال کیا کرتی ہیں اور وہ مثل یہ ہے کہ: دھی اے نی میں گل کراں۔نونہہ ایس نی تو کن دھر بہوا ایک غیر گھر سے آئی ہوئی ہوتی ہے۔اگر بہو کو کوئی نصیحت کی جائے تو وہ بُرا مناتی اور یہ خیال کرتی ہے کہ میں چونکہ غیر گھر کی تھی اس لیے مجھے ایسے کہا گیا ہے۔اسی لیے جو بے وقوف ساس ہوتی ہے وہ تو بہو کومخاطب کرتی ہے لیکن جو عقلمند ساس ہوتی ہے وہ بیٹی کو مخاطب کرتی ہے۔اس طرح بیٹی تو بُرا نہیں مناتی کیونکہ وہ اپنی ہوتی ہے اور بہو بھی بُرا نہیں مناتی کیونکہ وہ مجھتی ہے کہ یہ بات بیٹی کو کہی گئی ہے۔اگر میں نے بھی یہ بات سُن لی تو کیا ہوا۔اس طرح فساد اور اختلاف سے بچاؤ کی صورت پیدا ہو جاتی ہے۔بات بھی کہی جاتی ہے اور فائدہ بھی ہو جاتا ہے۔اس مثل کے ماتحت میں نے گو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خاندان کو مخاطب کیا ہے لیکن ساری جماعت کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ وہ بھی میری مخاطب ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے خاندان کو اگر میں نے مخاطب کیا ہے تو اس لیے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خاندان کا مجھ پر دُہرا حق ہے۔ایک رشتہ داری کا اور دوسرا احمدیت کا۔قرآن مجید میں بھی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَانْذِرُ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ 1 یعنی اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! تو دنیا کو ڈرا اور اُسے بیدار اور ہوشیار کر۔مگر پہلے اپنے رشتہ داروں اور قریبیوں کو ڈرا کیونکہ اُن کا تجھ پر دُہرا حق ہے۔حقیقت یہ ہے کہ رشتے داریاں دنیا میں بڑا اثر رکھتی ہیں اور تاریخ میں اس کے اثرات کی بعض حیرت انگیز مثالیں ہمیں ملتی ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت جب تبلیغ شروع کی اور کفار نے انتہائی طور پر ہر رنگ میں اپنا اثر استعمال کر لیا اور کسی طرح بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تعلیم اور حق کے اعلان کو نہ چھوڑا تو مکہ کے لوگ ابوطالب کے پاس آئے اور اُنہیں کہا کہ آپ اپنے بھتیجے کو سمجھا لیجیے۔ورنہ ہم مجبور ہو جائیں گے کہ اُس کے ساتھ آپ کا بائیکاٹ کر دیں۔حضرت ابو طالب نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلایا اور اُن سے کہا اے میرے بھتیجے! آج تک میں نے تیرا ساتھ دیا ہے مگر آج میری قوم کے لوگ میرے پاس آئے ہیں اور اُنہوں نے کہا ہے کہ ابو طالب ہم تیرا بہت لحاظ کرتے رہے ہیں مگر آج ہم نے فیصلہ کر لیا ہے کہ اگر