خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 46 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 46

1948ء 46 خطبات محمود اُسے توڑ دینا ایسی چیز نہیں جو معاف کی جاسکے۔ یہ اس دنیا میں بھی اُن کو ذلیل کر دے گی اور اگلے جہان میں بھی اُن کو ذلیل کرے گی ۔ کے میرے اُس خطبہ کے جواب میں ہمارے خاندان کے دونو جوانوں نے مجھے لکھا ہے کہ ہم نے تو پہلے ہی اپنی زندگیاں دین کے لیے وقف کی ہوئی ہیں۔ میں نے اُس محکمہ کے ذریعہ جو وقف کا ریکارڈ رکھتا ہے اُنہیں جواب دیا ہے کہ پہلے اپنی شکل تو اسلام اور احمدیت والی بناؤ اور اسلام اور احمدیت پر عمل کر کے دکھاؤ۔ اگر تم اپنی شکل اسلام اور احمدیت والی نہیں بنا سکتے اور نہ اُس کی تعلیم پر عمل کرتے ہو تو تمہارا مارا اپنے آپ کو وقف کرنا محض ایک دھوکا ہوگا ۔ آخر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کس چیز - لیے آئے تھے؟ کیا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام دفتروں کی کلرکیاں کرنے کے لیے آئے تھے؟ کیا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تجارتیں کرنے کے لیے آئے تھے؟ کیا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کارخانے قائم کرنے کے لیے آئے تھے؟ آخر کس چیز پر ہم اُن کو لگا ئیں؟ جب وہ قرآن اور حدیث ہی نہیں جانتے اور جب وہ اُن پر عامل ہی نہیں تو ہم اُن کو کس چیز پر لگائیں ۔ جب وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے نقش قدم پر چلنے کے لیے تیار نہیں، جب اُن کا لباس اور طور طریق بھی اسلام کے مطابق نہیں تو ہم نے اُن کے وقف کو لے کر کیا کرنا ہے۔ آخر ان کو دیکھ کر ایک چمار عیسائی کے لباس اور اُن کے لباس میں کیا فرق نظر آتا ہے۔ ایک چوڑھا عیسائی ہوتا ہے تو وہ بھی اسی طرح پینٹ پہن لیتا ہے۔ ایک سانسی عیسائی ہوتا ہے تو وہ بھی اسی طرح پینٹ پہن لیتا ہے۔ جب اُن کے اندر اتنی بھی غیرت نہیں ۔ جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اُن کے دلوں میں اتنی بھی محبت نہیں کہ وہ اپنے لباس اور طریق کو درست کر سکیں۔ اور جب اسلام کی اُن میں اتنی بھی محبت نہیں کہ وہ قرآن اور حدیث پڑھ کر دین کی واقفیت حاصل کریں تو اُن کے وقف کے معنے ہی کیا ہیں؟ کلرک تو ہم عیسائی بھی نوکر رکھ سکتے ہیں یا تجارت کا کام بھی عیسائیوں سے کروایا جا سکتا ہے۔ جس کام پر غیر مذاہب کے لوگ نہیں رکھے جا سکتے وہ تبلیغ ہے۔ وہ اسلام اور احمدیت کی اشاعت ہے۔ اگر واقع میں اُن کے دلوں میں اسلام اور احمدیت کی کوئی محبت ہے تو انہیں قرآن پڑھنا چاہیے، حدیث پڑھنی چاہیے، اپنے لباس اور طرز بود و باش کو درست کرنا چاہیے۔ جب تک وہ یہ کام نہیں کر سکتے اُس وقت تک اُن کا اپنے آپ کو وقف کرنا دنیا کو بھی دھوکا دینا ہے اور اپنے آپ کو بھی دھوکا دینا ہے۔ دنیا کو وہ