خطبات محمود (جلد 29) — Page 47
$1948 47 خطبات محمود دھوکا دے سکتے ہیں لیکن اگر اپنے آپ کو بھی وہ دھوکا دیتے رہے تو انہیں سمجھ لینا چاہیے کہ وہ اپنی نجات کا دروازہ اپنے ہاتھ سے بند کریں گے۔جس قسم کے حالات جماعت کو آئندہ پیش آنے والے ہیں وہ نہایت خطرناک ہیں۔پہلے بھی میں نے تفصیل سے حالات نہیں بتائے تھے صرف اجمالاً آئندہ آنے والی مشکلات کا ذکر کیا تھا اور تم نے دیکھا کہ جو کچھ میں نے کہا تھا وہ لفظاً لفظاً پورا ہوا۔اب میں اُس سے بھی زیادہ خطرناک حالات جماعت کے متعلق دیکھتا ہوں۔میں اُس سے بھی زیادہ مشکلات احمدیت کے راستہ میں حائل ہوتی ہوئی دیکھتا ہوں۔احمدیت تو بہر حال غالب آئے گی لیکن احمدیت کی جنگ پندرہ ہیں سال سے زیادہ نہیں چل سکتی۔پندرہ بیس سال کے عرصہ میں یا تم غالب آ جاؤ گے یا تم تباہ کر دیئے جاؤ گے۔ان دونوں میں سے ایک بات ضرور ہو کر رہے گی۔میں "تم " کا لفظ استعمال کرتا ہوں احمدیت کا لفظ استعمال نہیں کرتا کیونکہ احمدیت بہر حال غالب آئے گی۔صرف پندرہ بیس سال کی مہلت ہے گی۔صرف ہیں جو تمہیں دی گئی ہے۔ان پندرہ بیس سالوں میں سے ہر پہلا سال آئندہ آنے والے سال سے زیادہ ہے۔1948ء 1949 ء سے زیادہ قیمتی ہے اور 1949ء 1950ء سے زیادہ قیمتی ہے اور 1950ء،1951 ء سے زیادہ قیمتی ہے اور 1951ء ، 1952ء سے زیادہ قیمتی ہے اور 1952ء، 1953ء سے زیادہ قیمتی ہے۔تم اگر یہ کہو کہ اگر میں نے 1948ء میں یہ کام نہیں کیا تو کیا ہوا 1949ء میں کر لیں گے تو تم کچھ نہیں کر سکو گے۔لیکن اگر تم یہ کہو 1949ء کا کام ہم 1948ء میں کر لیں تب بے شک تمہاری کامیابی قریب آسکتی ہے۔بہر حال اس زمانہ میں سب سے بڑا فرض اور سب سے اہم فرض حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اولاد کا ہے۔میں دیکھتا ہوں کہ قادیان سے نکلنے اور نظام کے درہم برہم ہو جانے پر بجائے اس کے کہ جماعت کے نوجوان خدمت دین کے لیے آگے آتے چالیس فیصدی انجمن کے کارکن بھاگ کر باہر چلے گئے۔گویا جس وقت لوگ دنیا میں اکٹھے ؟ جایا کرتے ہیں اُس وقت ہماری جماعت کے نوجوانوں نے غداری اور بے ایمانی کا ثبوت دیا ہے۔بجائے اس کے کہ وہ اپنے کام چھوڑ کر خدمت کے لیے آجاتے وہ سلسلہ کا کام چھوڑ کر باہر چلے گئے ہیں۔میں دیکھتا ہوں کہ بچوں کے منہ پر یہ الفاظ ہیں کہ اگر ہم نہ جائیں تو کھائیں کہاں سے؟ مگر یہ سوال صرف تمہارے سامنے ہی نہیں بلکہ پہلی جماعتوں کے سامنے بھی یہ سوال تھا اور پھر بھی وہ دین کا