خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 420 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 420

1948ء 420 خطبات محمود ہٹلر کا نام سن کر تم کتنا مرعوب ہوتے تھے۔ جرمنی والے کہتے تھے کہ وہ دوسرا مسیح ہے مگر پہلے اتنے مسیح سے بڑھ کر ۔ وہ کسی غیر ملک میں نہیں ، کسی غیر شہر میں نہیں بلکہ اپنے ہی ملک اور اپنے ہی شہر میں اکیلا مارا گیا۔ اُس کے اپنے مددگار اُسے چھوڑ گئے ۔ انہوں نے اس سے منہ موڑ لیا اور وہ اپنے ہی گھر کے سامنے مارا گیا ۔ اس کے مقابلے میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھو! ہٹلر کے محلوں ، آرام گاہوں اور آسائش گاہوں کے مقابلہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جھونپڑے کی کیا حیثیت تھی۔ ہٹلر کے کناس یعنی گھر کی صفائی کرنے والے کی غذا صحابہ کی غذا سے یقیناً دس گنے سے بھی زیادہ اچھی تھی۔ ہٹلر کے گھر کی صفائی کرنے والے، اُس کے بہرے اور اُس کے باورچیوں کے بستر صحابہؓ کے بستروں سے یقیناً دس گنے اچھے تھے۔ لیکن وہ مرتا ہے تو اس طرح کہ اُس کی موت کے وقت اُس سے محبت کرنے والا اور اُس پر آنسو بہانے والا کوئی نہیں ہوتا۔ لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حال ہے کہ آپ کا ایک صحابی پکڑا جاتا ہے، کفار اُس کو پھانسی دینا چاہتے ہیں ، وہ اُسے قتل کرنا چاہتے ہیں۔ مرتے وقت جب کہ لکڑی رکھ دی جاتی ہے، اُس زمانہ کے رواج کے مطابق جس پر سر رکھ کر کسی کو قتل کیا جاتا تھا، تو ایک آدمی اُس سے مخاطب ہو کر کہتا ہے کیا تمہارا دل چاہتا ہے کہ تم آرام سے مدینے میں بیٹھے ہوئے ہو اور تمہاری جگہ اس وقت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہوں؟ تو وہ جواب دیتا ہے تم تو یہ کہتے ہو کہ میں مدینے میں اپنے گھر میں آرام سے بیٹھوں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہاں میری جگہ ہوں بیوقوف ہمیں تو یہ بھی نہیں چاہتا کہ میں گھر میں آرام سے بیٹھا رہوں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں میں مدینے میں کوئی کانٹا چبھ جائے ۔3 ایک عورت محبت کے کتنے جذبات خاوند کے ساتھ رکھتی ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم لڑائی کے لیے باہر تشریف لے جاتے ہیں ۔ آپ کے چلے جانے کے بعد ایک صحابی اپنے گھر آتا ہے پ کے چلے جانے کے بعد ایک صحابی اسے اُس کا کوئی قصور نہیں تھا کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب جہاد کے لیے باہر تشریف لے گئے تو وہ گھر نہیں تھا کہیں باہر گیا ہوا تھا۔ وہ اپنے گھر میں داخل ہوتا ہے اور ایک عرصے کی جدائی کے بعد جب اُس نے اپنی بیوی کو دیکھا وہ تپاک کے ساتھ آگے بڑھا۔ آج کتنی بیویاں ہیں جو منہ پھلائے رہتی ہیں۔ اس لیے کہ اُن کے خاوندوں نے اُن سے پیار نہیں کیا، کتنی بیویاں ہیں جو روتے ہوئے رات گزار دیتی ہیں اس لیے کہ اُن کے خاوندوں نے اُن کی طرف پوری توجہ نہیں کی۔ لیکن وہ صحابی جب