خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 407 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 407

1948ء 407 خطبات محمود ہے کہ مبلغوں کو روکھی سوکھی روٹی مل سکتی ہے۔ اس کے مقابلہ میں دور اول میں پچھلے سال کا دولاکھ اسی ہزار کا وعدہ تھا لیکن وصولی ساری دولاکھ ہوئی ہے۔ اتنی بڑی رقم کے علاوہ گزشتہ سالوں میں جو قرضے ہوتے چلے گئے ہیں وہ بھی گیارہ لاکھ کے قریب تھے۔ قادیان میں کچھ جائیدادیں تھیں جو بک کر کام آسکتی تھیں لیکن وہ بھی ہمارے ہاتھ سے نکل گئی ہیں ۔ پچھلے سال ہم نے کچھ قرضے اتارے بھی تھے لیکن اب بھی نو لاکھ کے قریب قرضہ باقی ہے۔ ادھر آمد سے خرچ زیادہ ہے اور پچھلا قرضہ بھی ہے۔ کچھ خرچ تو ہم اس طرح نکال لیتے ہیں کہ بیرونی ممالک کی جماعتوں پر زور ڈال کر کچھ وصول کر لیتے ہیں لیکن وہ کہ ابتدائی جماعتیں ہیں اور وہ اتنا بوجھ نہیں اٹھا سکتیں اور کچھ ہم دوسرے سالوں کے بقایوں کی وصولی سے کام چلا لیتے ہیں۔ لیکن اب زمانہ آگیا ہے کہ قرضے جلدی سے جلدی اُتار دیئے جائیں کیونکہ اگر ہم قرضے جلدی نہیں اُتاریں گے تو مشکلات بڑھ جائیں گی۔ دور اول پانچ سال کے بعد ختم ہونے والا ہے۔ اگر یہ ختم ہو گیا تو تمام بوجھ دور ثانی پر پڑ جائے گا ۔ دفتر دوم کے وعدے پچھلے سال ایک لاکھ کے قریب تھے جس میں سے صرف چون ہزار روپے کی رقم وصول ہوئی تھی۔ یہ حال رہا تو ہم چار لاکھ سالانہ کا خرچ کہاں سے نکالیں گے۔ پس اس نئے دور سے پہلے ضروری ہے کہ ہم پہلے قرضوں کو اتار دیں ورنہ بعد میں کام کو بڑھانا تو ایک طرف رہا۔ ہم موجودہ کام کو بھی نہیں چلا سکیں گے۔ پس میں دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنے فرائض کو سمجھتے ہوئے اپنے وعدے لکھوائیں۔ میرے مخاطب اس وقت دور اول کے لوگ ہیں جنہیں السَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ میں شامل ہونے کی توفیق ملی ہے اور جنہیں خدا تعالیٰ توفیق دے وہ پہلے سے بڑھ کر وعدے لکھوائیں۔ میں نے تحریک ستمبر کے متعلق کہا تھا کہ جن دوستوں کا چندہ تینتیس سے پچاس فیصدی کے حساب سے عام : ، عام چندوں سے بڑھ جاتا ہے اُن کا تحریک کا چندہ اس میں شامل ہوگا ۔ اور پھر میں نے اعلان کروایا تھا کہ لوگ با قاعدہ طور پر بتائیں کہ اُن کے اس چندے میں کون کونسے چندے شامل ہیں۔ فرض کرو ایک آدمی کا بیس فیصدی چندہ بنتا تھا۔ اب وہ پچیس فیصدی دے تو اُس میں تحریک کا چندہ شامل ہوگا۔ لیکن بیت المال والوں نے بتایا ہے کہ بہت کم لوگ ہیں جنہوں نے ایسا کیا ہے۔ اب اگر ان لوگوں سے مطالبہ کیا جائے کہ وہ تحریک جدید کے وعدے پورے کریں تو اس کی ذمہ داری خودا نہی پر ہوگی ۔ کسی کو کیا پتہ ہے کہ وہ کیا کیا چندے ادا کرتے ہیں۔ اس کا پتہ تو دفتر کو بھی نہیں ہو سکتا۔ پس اگر کسی دوست نے اس طرح کا وعدہ